خطبات محمود (جلد 2) — Page 266
کی وجہ سے یہ خیال کرتے تھے کہ شخص دین سے بھی کیا اور دنیا سے بھی۔وہ کہتے تھے کہ یہ دھانی لحاظ سے بھی اس کے ماننے والے کوئی نہیں اور جسمانی لحاظ سے بھی نرینہ اولاد سے محروم ہے۔ہماری پنجابی زبان میں جیسے کسی کی تخقیر کرنی ہو تو کہتے ہیں اوترا کھرانہ اسی طرح رسول کریم صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ان بدبختوں نے یہی نام رکھا ہوا تھا کہ اوترا نکھرا ہے کیا مگر میں آپ کے ماننے والوں کی جو درگت بنا کرتی تھی۔اس کے متعلق غلاموں کے واقعات تو بہت دفعہ بیان ہو چکے ہیں مگر جو لوگ گھر بار والے تھے اور بڑے بڑے رئیس خاندانوں میں سے تھے۔ان کی بھی یہ حالت تھی کہ اپنے کیا اور خیر کیا بہت بری طرح ان کی خبر لیتے تھے۔ایک صحابی جو مکہ کے بہت بڑے خاندان میں سے تھے اور ایک بڑے رہیں کی اولاد تھے عثمان بن مظعون ان کا نام نفقہ نام تھا وہ اپنی جوانی کے ایام میں ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان لائے اور اس صداق اور جوش سے ایمان لائے کہ گویا اپنے محلہ والوں کو انہوں نے ہلا دیا۔لوگوں نے ان کو تکلیفیں دینی شروع کیں۔دُکھ دینے شروع کئے اور اس قدر دکھ دیتے کہ جب ہجرت اُولیٰ ہوئی تو وہ ایسے سینیا ( ETHOPIA) کی طرف چلے گئے۔مگر بعد میں کفار نے جب یہ خبر اڑا دی کہ مگر کے تمام لوگ مسلمان ہو گئے ہیں اور وہاں امن قائم ہو گیا ہے تو وہ پھر مکہ کو واپس آئے مگر جب مکہ میں پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ یہ خبر بالکل چھوٹی ہے اور اس لئے اڑائی گئی ہے تاکہ مسلمان واپس آئیں اور کفار ان کو پھر دیکھ دیں۔انہوں نے ارادہ کیا کہ پھر واپس اپنے سینیا چلے جائیں مگر اتنے میں مکہ کا ایک سردار جو بہت بڑی عظمت اور شان رکھتا تھا اور جس کا تمام لوگ ادب کیا کرتے تھے اور جو عثمان بن مظعون کے باپ کا گہرا دوست تھا اور وہ دونوں آپس میں بھائی بھائی بنے ہوئے تھے۔ان کو ملا اور انہیں دیکھ کر کہنے لگا کہ تم کہاں غائب تھے ؟ انہوں نے کہا میری زندگی یہاں کے لوگوں نے خوامہ کی ہوئی تھی۔اور میں مظالم سے تنگ آکر اسے سینیا چلا گیا تھا۔وہاں مجھے معلوم ہوا کہ مکہ کے تمام لوگ مسلمان ہو گئے ہیں مگر جیب واپس آیا تومعلوم ہوا کہ وہی حالات ہیں۔اس لئے اب لیکن پھر واپس جانے لگا ہوں اس نے کہا۔نہیں تمہارا باپ میرا بھائی بنا ہوا تھا، کون ایسا ہو سکتا ہے جو میری موجودگی میں تم کو دکھ دے سکے۔چنانچہ اس نے ان کا ہاتھ پکڑا اور خانہ کعبہ کی طرف لے کر چل پڑا۔جیسے تمہارے ہاں جلسہ سالانہ کے موقعہ پر اگر کوئی عام اعلان کرنا ہو تو جلسہ کی سٹیج پر کیا جاتا ہے۔اسی طرح ان لوگوں میں دستور تھا کہ جب کوئی عام اعلان کرنا ہوتا تو خانہ کعبہ میں جا کر کرتے اس نے بھی کرنا توسان بیره اس سے مراد ہیشہ ہے۔