خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 250

۲۵۰ لگایا جاسکتا ہے۔وہ خود کہتے ہیں کہ ہمیں جب گھر میں داخل ہوا تو میری ماں بقیاب ہو کہ مجھ سے چمٹ گئی اور رونے لگی۔اس نوجوان کو بھی رونا آگیا اور اس نے سمجھا کہ شاید میں اب اس گھر میں رہ سکوں گا۔لیکن اس کی ماں بھی کفر میں بڑی پختہ تھی اور وہ اگر اسلام پر مضبوطی سے قائم تھا تو اس کی ماں کیفر کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں تھی۔تھوڑی دیر کے بعد اس کی ماں اسے کہنے لگی کہ بچے اب تو تجھے سمجھ آگئی ہو گی کہ تو نے کیسا دین اختیار کیا ہے۔دیکھ تجھے ہاں باپ چھوڑنے پڑنے اپنے عزیز اور رشتہ دار چھوڑنے پڑے اور پھر کیسی کیسی تکلیفیں ہیں جو تو نے اُٹھائیں۔اب بھی تو ہم میں آکریل جا۔اور یا د رکھ کہ ہم اس صورت میں تجھے کو اپنے گھر میں رہنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔تو پھر ہم میں شامل ہو جائے اور اسلام کو ترک کر دے۔اس نے سمجھا کہ اثر ڈالنے کا یہی موقعہ ہے اس سے فائدہ اٹھانا چاہیئے مگر وہ نوجوان بھی کم المیان الانہ میں تھا۔یہ سنکر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور اس نے کہا ماں اگر تمہاری یہی شرط ہے کہ میں حضرت محمد صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چھوڑ دوں تو یہ شرط ہیں کبھی تسلیم نہیں کر سکتا۔یہ میری تم سے آخری ملاقات ہے اس کے بعد میں اب اس گھر میں نہیں آؤں گا چنانچہ پھر عمر بھر اس صحابی نے اپنی ماں کی شکل نہیں دیکھی سنیے به قربانی اگر ہم غور کریں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی سے کسی طرح کم نہیں بلکہ اخلاقی نقطہ نگاہ سے جب اس قربانی کو دیکھا جائے تو یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی سے بڑھی ہوئی نظر آتی ہے۔لیکن یہ نہیں کہنا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا درجہ اس صحابی سے کم ہے۔ئیں جانتا ہوں کہ اگر اللہ تعالے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ایسی ہی قربانی کا مطالبہ کرتا تو وہ بھی ضرور کرتے۔میرا مطلب اس سے یہ ہے کہ ابراہیمی صفت لوگ حضرت محمد صلے اللہ علیہ آلہ وسلم کی امت میں پیدا ہوئے جو ابراہیم کی طرح اس مقام پر کھڑے ہوئے کہ جب خدا نے انہیں کہا کہ آسیم - ہماری بات مان لو تو انہوں نے کہا اسسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ حضور کیا کہتے ہیں ہم تو پہلے سے قربانی کے لئے تیار کھڑے ہیں۔تو آسلَمْتُ لِرَبِّ العلمين له کنے والے رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روحانی اولاد میں ہزاروں ہوئے۔جنھوں نے دنیا کے سامنے پھر وہی نظارہ پیش کر دیا۔جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پیش کیا تھا۔اور جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تم سید الانبیاء لیکہ ابو الانبیاء کہتے ہیں تو اس کے معنی ہی ہیں کہ آپ کی روحانیت کے اثر کے نیچے ہر نبی کا جلوہ آپ کی اُمت نے دیکھا دیا۔کوئی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شان سے کر دنیا میں ظاہر ہوا۔کوئی حضرت اسمعیل علیہ السلام کی شان سے کردیا میں ظاہر ہوا۔کوئی حضرت اسحاق علیہ اسلام کی شان سے گر دنیا میں ظاہر ہوا۔اور کوئی معقول السلام