خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 244

۲۴۴ ۲۸ فرموده ۲۰ جنوری ۱۹۳۰ بمقام عیدگاه قاریا) آج کی عید جو عید الا ضحیہ کہلاتی ہے یعنی وہ عید جو قربانیوں کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔حج کے دوسرے دن اور اس کے ساتھ وابستہ وپیوستہ ہو کہ آتی ہے لیے اس تقریب کی وجہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وہ قربانی بیان کی جاتی ہے۔جو انہوں نے اپنے بیٹے کی خدا کے حضور تیشیں کی پس یہ عید حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس قربانی کی یادگار ہے کہ انہوں نے اللہ تعالے کے لئے اپنے بیٹے کو قربان کر دیا۔بیٹوں کی ظاہری رنگ میں قربانی تو اسلام نے ناجائزنہ بتائی ہے۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے بیٹے کی قربانی کرنے کا حکم دینے کی وجہ بھی یہی تھی کہ اللہ تعالے دنیا میں اس اصل کوت کم کرنا چاہتا تھا کہ آئندہ کے لئے بیٹوں کی ظاہری قربانی ممنوع قرار دی جاتی ہے ور نہ ہو سکتا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خواب کی جو تعبیر تھی اس مضمون کو اللہ تعالے اس صورت میں نہ دیکھاتا بلکہ کسی اور صورت میں دکھا دیتا کیو نکہ آخر اللہ تعالے کے حضوران کے بیٹے کی ظاہری قربانی مقصود نہیں تھی۔حضرت اسمعیل علیہ السلام نبی ہونے والے تھے ! جس شخص کے لئے نبوت مقدر تھی۔اس کے متعلق یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ اللہ تعالے اپنے نبی سے کہتا کہ اسے ذبح کر دو۔پس خدا تعالے کا شروع سے ہی یہ مقصد نہ تھا کہ حضرت اسمعیل علیہ السلام کو ذبح کیا جائے بلکہ یہ رویا جو حضرت ابراہیم علیہ سلام کو دکھایا گیا تعبیر طلب تھا اور جبکہ اللہ تعالے کا مفہوم کچھ اور تھا اور جب کہ کر دیا بھی تعبیر طلب تھا تو سوال ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالے نے اس امر کو کسی اور صورت میں کیوں نہ بیان کر دیا۔خواب آئندہ رونما ہونے والے واقعات کی ایک تصویر ہوتی ہے جیسے مصور تصویریں کھینچتے ہیں ویسے ہی اللہ تعالے خوابوں میں واقعات کی تصویر کھینچ کر اپنے مفہوم بیان کر دیتا ہے۔پھر جبکہ اللہ تعالے اس مفہوم کو کسی اور رنگ میں بھی بیان کر سکتا تھا تو سوال ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالے نے اس رنگ میں یہ منظوم کیوں بیان کیا ؟ اس کا جواب یہی ہے کہ اس سے پہلے لوگ اپنے بیٹوں کی قربانی کیا کرتے تھے۔اور اللہ تعالے چاہتا تھا کہ نہ صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کو وہ یہ خبر دے کہ وہ آپ سے اپنے بیٹے کی قربانی کہ انا چاہتا ہے بلکہ اس امرتے بھی انہیں مطلع کرے کہ ابراہیمی دین میں انسانوں کی ظاہری قربانی جس کا ان کی قوم میں رواج تھا۔آئندہ جائزہ نہیں ہوگی۔