خطبات محمود (جلد 2) — Page 238
۲۳۸ کہ کوئی اس سے واقف نہ ہوتا کہ اس کی ذلت اس کے آباد کی عزت کو نہ مادے اور وہ یہ کبھی نہیں کرتا کہ خود توان کے دستہ کو چھوڑ رہا ہو اور اس راستہ کی مسجد سے جو عورت ان کو ملی ہو اس میں اپنے آپ کو شریک کرنا چاہتا ہو۔پس ورثہ کی عزت تبھی عورت کہلاسکتی ہے جب کہ ذاتی عزت انسان ها نسل کے چکا ہو۔قرآن کریم نے اسی نکتہ کو ایک اور رنگ میں بیان فرمایا ہے۔فرماتا ہے کہ مومنوں کی بیویاں اور بچے بھی جنت کے اس اعلیٰ مقامہ میں رکھے جائیں گے جہاں ان کے باپ دادا ہوں گے۔بشرطیکہ وہ خود بھی مومن ہوائے یعینی ذاتی سوت بن کو حاصل ہوگی وہی اس بات کے مستحق قرار دیتے جائیں گے کہ اگر ان کے آباء میں سے کسی نے کوئی بڑا یہ حاصل کیا ہو تو ان کو بھی اس بڑے رتبہ کے مطابق انعام دست دیا جائے۔لیکن اگر ذاتی عزت حاصل نہ ہو۔تو پھر یہ اس مشرف کے مستحق نہیں ہوں گے۔یہ نہیں کہا جائے گا کہ ایک دوزخی کو یہ باں سے نکال کر جنت میں داخل کر دیا جائے اس لئے کہ اس کے باپ دادا میں سے کوئی مومن تھا۔ہاں یوں کیا جائیگا کہ اگر کوئی اوئے درجہ کا مومن ہوگا۔اور اپنے ذاتی شرف کی وجہ سے جنت میں داخل ہو چکا ہو گا تو اگر اس کے باپ دادا میں سے کوئی جنت کے اعلی درجہ میں پہنچا ہوا ہوگا تو اس کو بھی انس مقام شرف پر رکھ دیا جائے گا کیونکہ اس نے ذاتی شہرت حاصل کر کے ثابت کر دیا ہو گا کہ وہ اپنے آباد کے پسندیدہ بستہ کو خود بھی پسند کرتا تھا اور اسے حقارت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا تھا۔پس ان دونوں عیدوں نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ ہمیشہ دونوں قسم کی خوشیوں کو یاد رکھنا چا ہیئے اول وہ خوشی جو ذاتی کامیابی کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے اور دوم وہ خوشی جو آباد کی کامیابی کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے۔پھر اسلام کی پر حکمت تعلیم کو دیکھو تو اس نے ان عیدوں کی ترتیب بھی عین فطرت کے مطابق رکھی ہے۔یعنی جس طرح فطرت انسانی میں ذاتی خوشی پہلا زینہ ہے اور ورثہ کی خوشی دوسرا اور جب تک ذاتی خوا صل نہ ہو۔انسان ورزشه کی خوشی کا مستحق نہیں ہوتا اسی طرح اللہ تعالے نے ہمارے لئے وہ عید پہلے رکھی ہے جو ذاتی خوشی کی عید ہے اور وہ عید بعد میں رکھی ہے جو ورثہ کی خوشی پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اسلامی سال محترم سے شروع ہوتا ہے اور اس مہینہ سے اگر گنا جائے تو پہلے عید الفطر آتی ہے اور پھر عید الاضحیہ آتی ہے۔اسی طرح ایک اور نکتہ ان عیدوں میں یہ پایا جاتا ہے کہ یہ عیدیں سال کے آخر میں رکھی گئی ہیں۔اور اس طرح بتایا گیا ہے کہ ایک لمبی جدوجہد کے بعد ہی انسان کو کامیابی اور کامیابی کے تیریں ناشی ما نسل ہوتی ہے، جو لوگ خوشی پہلے منانا چاہتے ہیں اور جد و جہد پیچھے کرنا چاہتے ہیں۔وہ احمق ہیں اور ان کے تقامنے غیر فطری ہیں اور جس طرح غیر فطری تقاضے پورے نہیں ہوا کر تھے ان کا یہ تقاضا بھی کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔