خطبات محمود (جلد 2) — Page 16
ہاجرہ ان کے پیچھے پیچھے چلیں اور کہا۔آپ ہمیں کہاں چھوڑ چلے ہیں۔یہاں نہ پانی ہے نہ کھانا، نہ کوئی ساتھی ہے اور نہ آبادی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کچھ جواب نہ دیا۔آپ پر اس وقت رفت طاری تھی اور آپ بول نہ سکتے تھے۔حضرت ہاجرہ نے پھر کہا کہ آپ ہمیں کہاں چھوڑ چلے ہیں اس کا بھی انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔پھر تیسری دفعہ حضرت ہاجرہ نے کہا۔آپ ہمیں کہاں چھوڑ چھلے ہیں۔پھر بھی آپ خاموش رہے۔اس پر حضرت ہاجرہ نے کہا۔کیا خدا تعالے نے آپ کو ایسا کرنے کا حکم دیا حضرت ابراہیم علیہ السلام اس کے جواب میں صرف اتنا کہ سکے کہ ہاں۔اس سے زیادہ اور کچھ جواب نہ دے سکے۔نبیوں کا دل تو پہلے ہی بہت نرم ہوتا ہے۔اور یہ نظارہ ہی ایسا تھا کہ سخت سے سخت دل رکھنے والا بھی گھل جاتا۔اس سے دیکھو کہ حضرت ہاجرہ کا ایمان کیسا مضبوط اور قوی تھا۔وہ موقعہ ایسا تھا کہ اگر وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ چل پڑتیں تو انہوں نے کیا کہنا تھا یا کم از کم ان کو پکڑ کر مٹھ رتیں کہ ہمیں کہاں چھوڑ چھلے ہو۔میں آپ کو بھی جانے نہیں دوں گی۔یا اگر یہ بھی نہ ہو سکتا تو ان کے چھے پیچھے ہی چل پڑتیں۔اور اگر ان کے ساتھ نہ جانتیں تو کسی بستی اور آبادی میں ہی چلی جائیں اس طرح کچھ حرج بھی نہ تھا کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جو حکم ہوا تھا وہ تو انہوں نے پورا کر دیا تھا۔اور حضرت ہاجرہ کو کوئی ایسا حکم نہ دیا گیا تھا کہ وہ ضرور وہاں ہی بیٹھی رہیں۔کوئی کہے کہ حضرت ہاجرہ کو اس دردناک نظارہ کی وجہ سے اتنی ہوش ہی نہ رہی تھی کہ ایسا کرتیں اگر یہ بات مان کی جائے تو کم از کم وہ یہ تو کرتیں کہ روتیں پہنچتیں ، چلائیں اور شور مچاتیں کہ یہ ہم سے کیا دھو کہ کیا گیا ہے۔ہمیں جنگل میں لا کر ڈال دیا گیا ہے اور خود چلے گئے ہیں۔مگر اس قسم کی کوئی ایک بات بھی ان کے منہ سے نہیں نکلی بلکہ کہا تو یہی کہا کہ اِذن لا ضيعت اگر خدا کا بیک کم ہے تو وہ ہمیں ضائع نہیں ہونے دے گا۔وہ روتی ہیں نہ چلاتی ہیں نہ یہ گھستی ہیں کہ میں یہاں نہیں بیٹھوں گی۔بلکہ خدا کا حکم شنکر کہتی ہیں کہ وہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔جب پانی ختم ہو گیا اور حضرت اسمعیل علیہ السلام کو سخت پیاس لگی اور حضرت ہاجرہ پانی کی تلاش میں ادھر اُدھر بھاگتی پھریں تو خدا تعالئے سکے فرشتہ نے اس جگہ ایک چشمہ پھوڑ دیا۔اور پھر اسی چشمہ پر ایک قافلہ لا کر ڈال دیا اور وہیں ایک بستی بسا دی ہے اب وہاں ہر ایک نعمت ملتی ہے۔اس سے خدا تعالے نے مسلمانوں کو یہ سمجھایا ہے کہ دیکھو خدا تعالے کے حکم کے ماتحت کی ہوئی قربانی کبھی ضائع نہیں جاتی۔حضرت ابراہیم علیہ اسلام خدا تعالے کے بنی تھے انہوں نے جو کچھ کیا اپنی شان کے مطابق کیا حضرت اسمعیل علیہ السلام اسبی بچنے تھے۔اگر وہ اس وقت کچھ