خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 230

جمانی اور مالی قربانیاں کرتا چلا جاتا ہے۔وہ نہ اپنے آرام کی پرواہ کرتا ہے نہ آسائش کی بلکہ خدا تعالے کی راہ میں وہ اپنی بیوی اور بچوں کی بھی چھوڑنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے یہی لوگ ہیں جن کی قربانی اللہ تعالے قبول کرتا ہے لیکن بعد میں انعامات میں حصہ لینے کے لئے تو منافقوں کا گردہ بھی جاتا ہے۔اور خدا تعالٰے انہیں بھی کہتا ہے کہ تم بھی کچھ لے لو۔جیسے مرنے والا جب مر جاتا ہے ، در اس کا ترکہ تقسیم ہونے لگتا ہے تو ایسی حالت میں اگر کوئی مسائل آجائے تو اسے بھی کچھ دے دیا جاتا ہے۔سی طرح جب دنیوی برکات آتی ہیں تو خدا تعالے کہنا ہے کہ ان منافقوں کو بھی کچھ دیر ہو گیا ہوا نسیمی برکات کے وہ وارث نہیں ہو سکتے۔وہ برکات انہی کو ملتی ہیں جو قربانیوں کے میدان میں ہمیشہ بڑھتے چلے جاتے ہیں۔جن کی نگاہیں آسمان کی طرف طلبت ہوتی ہیں اور جو دنیوی نعماء کی بجائے اُخروی نعماء کی در قیمت پہچانتے ہیں اور در حقیقت انسان نخستین در تحقیقی برکات وہی ہیں۔خدا تعالے مجھے بھی اور آپ لوگوں کو بھی اس امر کی توفیق عطا فرمائے کہ ہم ہرقسم کی قربانیوں میں دلی شوق سے حصہ لینے والے ہوں۔ہمارے قلوب پر رسم کے زنگ سے پاک ہوں اور کلی اعتماد اور پورے شوق کے ساتھ پر جانی اور مالی قربانی اس کے حضور پیش کرنے کے لئے تیار ہوں۔اور پھر ہمیشہ اپنی قربانیوں میں بڑھنے پھلے جائیں تا آئندہ جب دنیا ابرا ہیم کی یاد میں عید الاضحیہ منانے لگے تو اس وقت آسمان پر خدا تعالٰی کے رجسٹر می میرا اور تمہارا نام بھی ہو۔اور اللہ تعالے کی ہرقسم کی رحمتیں ہمارے شامل حال ہوں اللهم آمین + الفضل ها در مارچ ۱۹۳ به عده تا علام ۱۵در له - سنن ابن ماجہ ابواب صلاة العيدين باب ما جاء فيما ذا اجتمع العيدان في يوم ہے۔سنن ابی داؤد کتاب الاطعمة باب في أكل الضب۔- سنن ابی داؤد کتاب الصلوۃ باب اذا دفق يوم الجمعة يوم عيد ہے۔ارض القرآن جلدا منها شه - پیدائش باب ۱۱ آیت ۲۹ باب ۱۷ آیت ۱۵ - باب ۲۳ آیت ۱-۲ - پیدائش باب ۱۶ آیت ۳۰۲ شه و یا فیملی ڈیود شنل با نبل مع تشریحی نوش از میتصبو منبری جبلد امه - تاریخ الخمیس - شه - پیدائش باب ۱۶ آیت 1