خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 15

۱۵ مرا یک انسان اس نظارہ کو اس وقت تک سمجھ ہی نہیں سکتا۔ارہ کو اس وقت تک سمجھ ہی نہیں سکتا جب تک کہ وہ اپنی آنکھوں نہ دیکھ لے کہ ایک ایسی جگہ جہاں نہ سبزہ ہے نہ پانی نہ پھل ہے نہ پھول بلکہ کوئی کھیتی بھی نہیں ہوتی اور اب تک نہیں ہوتی۔بعض لوگوں نے کھیتی کرنی چاہی ہے مگر اس میں ناکامی ہوئی ہے۔چھوٹی چھوٹی جھاڑیاں سخی کے قریب نظر آتی ہیں مگر وہ بھی خشک سی۔ایسی حالت کے ہوتے ہوئے اب وہاں لاکھوں انسانوں کی بستی ہے جنہیں ہر ایک چیز عمدہ اور تازہ مل جاتی ہے۔انگور اور انار جیسے عمدہ وہاں ملتے ہیں ویسے تہندوستان بھر میں میں نے نہیں دیکھے۔وہ ایسے اعلیٰ ہوتے ہیں کہ کابلی اور قندھاری بھی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے ایک انار ہوتے ہیں جن کے دانے خشک سے اور چھوٹے ہوتے ہیں۔ایک بڑے دانے والے ہوتے ہیں ان کے دانے کھنے اور ترش ہوتے ہیں لیکن مکہ میں میں نے دیکھا ہے انار کا دانہ بہت موٹا اور شیریں ہوتا ہے اسی طرح انگورہ کا دانہ بڑا بڑا اور گول ہوتا ہے اور نہایت شیریں - گنا سارے حجاز میں نہیں ہوتا مگر مکہ میں بجتا ہے۔سنگترہ شام وغیرہ سے چلا جاتا ہے۔نرم ہر قسم کے اور ہر موسم کے میوے اور سبزیاں تجمع جو کہ وہاں چلی جاتی ہیں تو کیوں؟ اس قربانی کے عوطن میں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کی تھی اور اپنے لڑکے کو ایک عظیم انسان ا دھر مذہب کی بنیاد کے طور پر ایک ایسے جنگل میں چھوڑ آئے تھے جہاں نہ پانی تھا نہ دانہ۔پھر اسی قربانی کی یاد میں وہاں ایک زمزم کا چشمہ ہے۔ایک وقت تو یہ حال تھا کہ وہاں پانی کی ایک بوند نہ ملتی تھی یا اب یہ حالت ہے کہ وہاں سے پانی کو کیوں اور بوتلوں میں بند کر کے تمام جہان میں لے جایا جاتا ہے۔اور اس مت در پانی نکلتا ہے کہ ختم ہی نہیں ہوتا حالانکہ تمام دنیا میں جاتا ہے۔وہاں کے لوگ پیتے ہیں اور یاد کرتے ہیں کہ یہ اس چشمہ کا پانی ہے جو حضرت اسمعیل علیہ السلام کے پیاسے تڑپنے اور ایک قطرہ پانی کا نہ ملنے کے وقت ملا تھا۔اور آج اس میں اس قدر پانی ہے کہ ذرا بھی کمی نہیں آتی۔یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ خدا تعالے کسی کی قربانی کو ضائع نہیں کرتا۔اور وہ قربانی جو خدا تعالے کے حکم کے بہتخت کی جاتی ہے وہ کبھی ضائع نہیں جاتی بلکہ بہت سی برکات کا موجب ہوتی ہے۔حضرت ابراہیم علیہا سلام کے حضرت ہاجرہ کو اور حضرت اسمعیل علیہ اسلام کو شکل میں چھوڑنے کے متعلق حدیث سے پتہ لگتا ہے، اور کچھ بائیبل میں بھی اس کا ذکر ہے یہ حضرت ابرا ہیم علیہ اسلام جب ان کو لے کر آئے تو انہیں وہاں چھوڑ کر کچھ دیر ٹھہرے رہے ،تا یہ غافل ہوں اور میں ان کے پاس سے چلا جاؤں۔ایک تھیلی کھجوروں کی اور ایک مشک پانی کی ان کے پاس رکھ دی۔اور آپ نظر بچا کر چل پڑے۔حضرت ہاجرہ نے آپ کو جاتے ہوئے دیکھ لیا۔ابن عباس کی روایت ہے کہ حضرت