خطبات محمود (جلد 2) — Page 14
ر فرموده و راکتو براش بمقام عیدگاه - قادیان) وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَ أَمِنَّاةَ اجْنُبْنِي وَبَنِي انْ نَّعْبُدَ الْأَصْنَامَهُ رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ : فَمَنِ تبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنَى وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَّحِيدُه رَبِّنَا إِلَ اسكنتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا يقِيمُوا الصَّلوةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِى إِلَيْهِمَ وَارْزُ منَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ ، رَبَّنَا إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا تُخْفِي وَمَا نُعْلِنُ وَمَا يخفى عَلَى اللهِ مِنْ شَيْ ءٍ فِي الأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبْ لِي عَلَى الكِبَرِ اسْمَعِيلَ وَإِسْحَقَ اِن رَبِّي لَسَمِيعُ الدُّعَاء له آج کا دن انسان کو اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ خدا تعالے کے لئے دی ہوئی کوئی چیز ضائع نہیں جاتی۔ہر ایک وہ چیز جو انسان صرف کرتا ہے۔فنا ہو جاتی ہے ملکہ یوں کہنا چاہیئے کہ ہر ایک وہ چیز جو انسان کے پاس ہوتی ہے فنا ہو جاتی ہے مگر جو چیز انسان خدا کے سپرد کر دیا ہے وہ کبھی فنا نہیں ہوتی۔آج کا دن ہمیں اسی بات کی طرف متوجہ کرتا ہے۔کئی ہزار سال گذر گئے قریبا چار ہزار سال ہو گئے کہ ایک انسان نے خدا کے لئے کچھ قربانی کی تھی۔اللہ کے حکم کے ماتحت اس نے اپنی بیوی اور بچے کو ایک ایسے جنگل میں جس میں نہ پانی تھا نہ کھانا، ن محافظ تھا نگهبان، لا کر ڈال دیا تھا پھر خدا تعالے نے اس قربانی کو ایسا تبدیل کیا کہ کو چار ہزار سال گزر گئے مگر آجتک لوگ اسے بار بار یاد کرتے ہیں اور کوئی سال ایسا نہیں گذرتا کہ اس قربانی کو یاد نہ کیا جاتا ہو۔بہت سے لوگ خدا کے حضور اسی کی یاد میں قربانیاں گذارتے ہیں۔میرے نزدیک حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وہ رویہ کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔اسی رنگ میں پوری ہوئی کہ آپ حضرت اسمعیل کو ایک جنگل میں چھوڑ گئے۔یہی حقیقی تعبیر متقی اس رؤیا کی۔وہ دراصل ایک پیشگوئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ایک وقت آئے گا جبکہ تم خدا کے حکم کے ماتحت اپنے لڑکے کو ایسے جنگل میں جہاں بظاہر زیست کا کوئی سامان نہ ہو گا۔چھوڑ آؤ لکھے اور اس کی بجائے قربانیاں ہوا کریں گی لیے چنانچہ حضرت ابرا استیم کو سہی دکھا یا گیا کہ دنبہ ذبح کرو جس کو انہوں نے کر دیا۔اب اسی کی یاد میں قربانیاں ہوتی ہیں۔