خطبات محمود (جلد 2) — Page 211
۲۱۱ ابراہیم علیہ السلام کی نیکی اور بعض نشانات دیکھئے اپنی لڑکی حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بیاد کی دی تھی لیکن پرانے زمانہ میں قاعدہ تھا اور اب بھی بند دنوں میں ہے کہ وہ پہلی بیوی کو اسلی بیوی قرار دیتے ہیں اور دوسری بیویوں کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ اس کے ماتحت ہیں لیے چنانچہ مسلمانوں ہیں اور ہندوؤں میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ مسلمان تمام بیویوں کو کیساں قرانہ دیتے ہیں۔مگر ہندو لوگ صرف پہلی بیوی کو بیوی سمجھتے ہیں اور دوسری بیویوں کو اس کا ماتحت قرار دیتے ہیں۔مسلمانوں میں بھی جہاں مہندووانہ رسوم کا اثر ہے جب کسی شخص کی دو بیویاں ہوں تو اس کے عزیز پہلی بیوی کے متعلق تو یہ کہتے ہیں کہ یہ بیاہی ہے اور دوسری بیوی کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ نکاحی ہے یہ حالانکہ جو بیاہی ہوئی ہوتی ہے وہ نکامی بھی ہوتی ہے۔اور جسے نکاحی کہتے ہیں وہ بھی یہی ہوتی ہے۔مگر وہ ان الفاظ سے دونوں میں فرق کرتے اور یہ بتلاتے ہیں کہ ایک ان میں سے اصل بیوی ہے اور دوسری بعد کی بیوی ہے۔مگر اسلام نے اس امتیاز کو بالکل مٹا دیا اور سب بیویوں کا حق برا پر تسلیم کیا ہے یہ لیکن پہلے زمانہ میں بڑی بیوی کو فوقیت دی جاتی تھی یعنی گھر کی مالکہ صرف دیسی سمجھی جاتی تھی۔تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے باوجود بڑی خواہش ، بڑے ارادوں اور بڑے چاؤ کے ساتھ شادی کرنے کے بچہ پیدا ہونے کے بعد جب دیکھا کہ اللہ تعالے کی طرف سے مجھے یہ حکم ملا ہے کہ میں اس کو اس کی راہ میں قربان کر دوں تو وہ فورا اس کو قربان کرنے کے لئے آمادہ ہو گئے۔چنانچہ انہوں نے رویا دیکھا تھا کہ میں اپنے بیٹے اسمعیل کو ذبح کر رہا ہوں۔وہ یہ رہو یا دیکھتے ہی اس بات پر آمادہ ہو گئے کہ میں اسمعیل کو ذبح کر دوں۔حالانکہ ذبح کرنے سے مراد اسمعیل کو چھری سے ذنج کرنا نہیں تھا بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ اسے مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں جا کر چھوڑ آؤ۔یہی ان کے خواب کی تعبیر تھی اور یہی بات اللہ تعالے نے ان کو بتائی تھی مگر چونکہ تعبیر اپنے وقت پر ظاہر ہوا کرتی ہے۔اس لئے ان کا ذہن اس وقت اس طرف نہیں گیا کہ اللہ تعالے اس خواب کے ذریعہ مجھے یہ تنہا رہا ہے۔کہ ایک دن تم اپنے اکلوتے بیٹے سے وہ معاملہ کروگے جو ذبح کرنے کے مترادف ہے۔اور ہمارے حکم کے ماتحت تمہیں اسے ایک ایسے علاقہ میں چھوڑ کر آنا پڑے گا جہاں میلوں میل تک نہ کھانے کا کوئی سامان ہوگا نہ پینے کا۔انہوں نے اس خواب کو ظاہری رنگ میں پورا کرنے کے لئے اپنے بیٹے کو گرایا اور چاہا کہ اسے ذبح کر کے اللہ تعالے کے منشاء کو پورا کر دیں۔مگر اللہ تعالے نے انہیں المساما فرمایا کہ جانے دو، تم نے تو ظاہری شکل میں بھی خواب پوری کردی۔لیکن انسان دوسرے کی باتوں کو شنکر ان جذبات اور احساسات کا قیاس نہیں کر سکتا جود دوسرے کے دل میں پیدا ہورہے ہوتے ہیں۔اگر کسی کی اپنی مرضی بھی مر جائے تو اُسے جتنا درد ہوتا ہے اتنا در راسے دوسرے