خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 203

کی جان کرتی ہے اور وہ بھی اکلوتا لڑکا۔اور اکلوتا لڑکا بھی وہ جو بڑھاپے میں پیدا ہوا تھا اور جس کے بعد کسی اور لڑکے کے پیدا ہونے کی بظاہر کوئی امید نہیں ہو سکتی تھی لیکن اپنے پیشیں اس طرح کیا جاتا ہے جیسے ایک پیاسے کو پانی کا گلاس دیا جاتا ہے یا بھوکے کو کھانا دیا جاتا ہے۔لوگ آجکل چھوٹی چھوٹی باتوں اور چھوٹی چھوٹی قربانیوں کے بعد جب ان قربانیوں کے پیشں کرنیوالے اپنی قوم کی مجلسوں میں حاضر ہوتے ہیں تو بے اختیار ہو کر نعرے لگاتے ہیں کہ فلان شخص زندہ باد مگر ابراہیم نے جو کام کیا اس کے مقابل پر یہ لوگ حیثیت ہی کیا رکھتے ہیں کہ ان کے لئے زندہ باد کے نعرے لگائے جائیں۔اور تم جانتے ہو کہ یہ عید دوسرے لفظوں میں خدا تعالے کی آوازہ ہے جو سلمانوں کے ذریعہ سے تمام دنیا پر سے ایک وقت میں بلند کی جاتی ہے اور جس کا اگر نشیلی زبان میں ترجمہ کیا جائے تو اردو میں اس کے لئے یہی الفاظ ہوں گے کہ ابراہیم زندہ باد۔ہم جب اس عید کے موقع پر کپڑے بدلتے ہیں، نہاتے ہیں، ایک مجمع میں جمع ہونے کے لئے تیاری کرتے ہیں تو گویا روحانی طور پر ہم اس امر کی تیاری کرتے ہیں کہ ابراہیم کی روح کا استقبال کریں گے اور جب ہم نماز میں کھڑے ہو کر تکبیریں کہتے ہیں تے تو دوسرے الفاظ میں ابراہیم کی قربانی کے موقعہ پر اپنے ہدیہ تبریک پیش کرنے کی تکبیریں ہوتی ہیں کیونکہ اسلامی طریق کے مطابق جب کوئی شاندار نظارہ نظر آئے جس میں خدا کا جلال ظاہر ہو تو اس وقت تکبیر کہی جاتی ہے گیلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں جنگ احزاب کے موقعہ پر دشمنوں کی کثرت کی وجہ سے ایک خندق کے کھود نے کی ضرورت پیش آئی تھی تا کہ دشمن رات اور دن کسی وقت بھی چھا پہ نہ مار سکے۔کیونکہ مسلمانوں کی فوج اتنی تھوڑی تھی کہ وہ چوبیس گھنٹے ہر مقام کا پرہ نہیں دے سکتے تھے۔تب آدمیوں کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ایک خندق کھودی گئی تاکہ تھوڑے آدمیوں کے ذریعہ بہت آدمیوں کا کام لیا جا سکے۔جب وہ خندق کھودی جارہی تھی تو ایک جگہ پر ایک پتھر نظر آیا جسے باوجود کوشش کے صحابہ نہ توڑ سکے۔اور انہوں نے کول کریم صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس شکایت کی کہ ایک چٹان ایسی آگئی ہے کہ اسے توڑا نہیں جاتی در خندق مکمل نہیں ہو سکتی۔تب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خود اس جگہ پر تشریف نے گئے اور فرمایا کہ کدال میرے ہاتھ میں دو۔اور آپ دو رگدال اس چٹان پر ماری ایسے زور سے کہ لوہے اور پتھر کے آپس میں ٹکرانے کی وجہ سے ایک آگ کا شعلہ نکلا۔آپ نے سنہ مایا اللہ اکبر اور سارے صحابہ نے ساتھ کہا اللہ اکبر۔پھر آپ بنے دوسری دفعہ کدال اُٹھائی اور اپنے پورے زور سے پھر وہ کدال چٹان پر ماری۔اور پھر اس میں سے آگ کا ایک شعلہ نکلا اور