خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 202

کتنا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ اس کے جذبات نہایت ہی اُبھرے ہوئے اور نازک تھے یا اور یہی وہ سبب ہیں جن کے ماتحت انسان ان فطرتی تقاضوں کو بھول جاتا ہے جن کو پورا کرنا ہر انسان کی فطرت کا جزو ہے۔پس جب ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے کی قربانی پیش کی تو اس کے دلی جذبات کا اندازه بهترین محبت کرنے والے ہاں باپ کے جذبات سے کیا جا سکتا ہے۔اور یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ابراہیم ان صحبت کرنے والے اور ان دکھ اٹھانے والے ماں باپ سے جدا قسم کا انسان تھا جو اپنے بچے کی ایک ذراسی تکلیف بھی نہیں دیکھ سکتے بلکہ لوط کے واقعہ سے ظاہر ہے کہ اپنے تو الگ رہے وہ بیگانوں کا دکھ بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا۔اب تم لوط کے واقعہ کو اپنی آنکھوں کے سامنے رکھتے ہوئے اس حساس دل کا خیال کرو جو دشمن کی تکلیف بھی برداشت نہیں کرتا تھا۔اور اس کے آرام کے لئے بھی خدا سے جھگڑاتا تھا کہ جب کہ اس نے شدید ترین دشمنان مذہب اور خود اپنے خاندان کے اشد ترین مخالفوں کی تباہی کی خبر سن کر ساری رات خدا سے جھگڑے میں گزار دی اور قدم بقدم اس کے رسم سے اس اس طرح اپیل کی کہ خدا کے رجمہ کو مانے بغیر کوئی چارہ نہ رہا۔اور وہ تب تک خاموش نہ ہوا جب تک اسے یہ معلوم نہ ہو گیا کہ رسم کی اب کوئی نبی صورت باقی نہیں رہی۔اس ابراہیم کو جب اس کے بیٹے کی قربانی کا حکم دیا گیا تو جس ابراہیم نے دشمنوں کی ہلاکت کے لئے ساری رات خدا سے بحث کی تھی اپنے بیٹے سے متعلق اس نے ایک لفظ بھی تو نہیں کہا اور فور ا لبیک کہتا ہوا اُٹھ کھڑا ہوا اور اپنے اکلوتے بیٹے کی قر بانی پیش کرنے پر آمادہ ہو گیا۔حج کے دن حاجی لبيك لبيك لا شريك لک لبیک کے نعرے لگاتے ہوئے خانہ کعبہ اور وہاں سے منیٰ کی طرف جاتے ہیں وہ اسی نظارہ کی تمثیل ہوتی ہے گویا وہ ابراہیم کی نقل کر رہے ہوتے ہیں۔اور اپنے موقفہ سے اقرار کر رہے ہوتے ہیں کہ جس وقت خدا نے اس سے کہا اے ابراہیم اپنے بیٹے کی قربانی کرے تو اس نے قربانی کے وقت کا انتظار نہیں کیا بلکہ اس خیال سے کہ اس حکم کے سننے اور قربانی کے پیش کرتے ہیں جو دیر لگے گی۔وہ میرے رب کو گراں نہ گذرے۔اس نے اسی وقت سے پکارنا شروع كيا بيك لبيك لا شريك لك لبيك - اے میرے رب میں حاضر ہوں اے رب میں حاضر ہوں تیرا اور کوئی شریک نہیں ہے۔اسے خدا ! میں پھر کہتا ہوں کہ میں حاضر ہوں اس جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ ابر ہمیں خدا تعالے کے قربانی کے مطالبہ کو پورا کرنے میں اسی والہانہ رنگ سے کھڑا ہوتا ہے۔جیسا ایک سخنی انسان جو درد مند دل رکھتا ہے کسی پیاسے کی آمد از شنکر جو شدت پیاس سے کراہ رہا ہو دُور سے چلا تا ہے کہ میں پانی لارہا ہوں ! پانی لا رہا ہوں انا اسے انتظار کی مزید تکلیف نہ اٹھانی پڑے۔یہ کیسا دردناک نظارہ اور عشق کا مظاہرہ ہے۔پیش تو ایک لڑکے