خطبات محمود (جلد 2) — Page 192
۱۹۲ بیم کا یہ فعل اپنی طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالے کی طرف سے ہے۔تو انہوں نے وہیں حضرت ابراہیم کو چھوڑ دیا اور کہا اِذَنَ لا يُضَيعُنَا۔اگر یہ بات ہے تو پھر خدا ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔جہاں آپ کی مرضی ہو چلے جائیں۔حضرت ہاجرہ نے یہ اپنے ایمان کا مظاہرہ کیا اور ایسی تکلیف کے وقت میں کوئی دوسرا لفظ زبان سے نہ نکالا۔اگر حضرت ہاجرہ ایک کمزور عورت ہو کہ خدا تعالے پر اتنے اعتماد اور اور یقین کا اظہار کر سکتی تھیں تو کیا تم سمجھ سکتے ہو کہ ہمارا طاقتور خدا اس کی قدر نہ کرتا۔ہر شخص جسے روحانی آنکھ نصیب ہو وہ اپنی روحانی آنکھوں سے اس بات کو دیکھ سکتا ہمجھے سکتا، اور محسوس کر سکتا ہے کہ جس وقت حضرت ہاجرہ کے دل سے یہ آواز نکلی ہوگی کہ اِذَن لا يضيعنا خدا ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔تو اپنے ہوش سے خدا تعالے نے ان کو جواب دیا ہوگا کہ بے شک میں تجھے کبھی ضائع نہیں کروں گا۔اور اس نے نہیں ضائع کیا۔کونسی انسانی عقل سمجھ سکتی تھی کہ حضرت اسمعیل اور حضرت ہاجرہ کی وہاں جان بچ جائے گی۔مگر جان بچنے کا تو کیا ذکر ہے خداتعالے نے ان کو ایک قوم بنایا ایسی زبر دست قوم جو ساری دنیا پر چھا گئی اور وہ محمد صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود میں داخل ہوتے ہوئے ساری دنیا کی حاکم اور بادشاہ بن گئی۔ہمارے آنحضرت صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم ساری دنیا کے لئے مبعوث ہوئے ہیں ہے۔پس وہ ساری دنیا کے بادشاہ ہیں اور یقیناً آپ کی بادشاہت روحانی رنگ میں آپ سے آباء کی طرف یعنی ان کی طرف جو روحانی اور جسمانی طور پہ آپ کے آباد میں منسوب ہوتی ہے۔حضرت اسماعیل اور حضرت ہاجرہ نے ساری دنیا کو خدا تعالے کے لئے چھوڑ دیا تھا۔خدا تعالی نے ساری دنیا اسمعیل کی کنسلوں کے قدموں میں ڈال دی۔مکہ کی دادیوں میں سوائے حضرت اسمعیل کے کون ایسا تھا جو اپنی ماں کے ساتھ اکیلا چھوڑا گیا۔گویا وہ سب دنیا سے خدا کے لئے جدا ہو گئے تھے پھر خدا تعالے نے بھی اپنی خاطر دنیا کو چھوڑنے والوں کے قدموں میں ساری دنیا کو لاڈالا کیونکہ ہم بھی اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تعلق رکھتے ہیں تو خدا تعالے کے لئے۔پس انہوں نے دنیا سے خدا تعالے کے لئے تعلق توڑا تھا دنیا نے خدا تعالے کے لئے نہی ان سے تعلق جوڑا۔پس یہ قربانی کوئی معمولی قربانی نہیں اور نہ یہ دن کوئی معمولی دن ہے۔یہ دن ہر شخص کو بہلاتا ہے کہ تمہارا خدا تمہارے قریب ہے۔تم ہاجرہ اور اسمعیل کی طرح بن جاؤ۔تمہارا خدا ساری دنیا کو تمہارے قدموں میں ڈال دے گا۔جو کچھ حضرت ہاجرہ نے کیا تھا وہ ہر مومن عورت کو سکتی ہے اور جو کچھ حضرت اسمعیل نے کیا تھا وہ ہر مومن بچہ کر سکتا ہے۔کوئی روگ درمیان میں حائل نہیں۔پس است خیال کرو کہ اس وقت اس قربانی کا موقعہ تھا نگر