خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 9

خدا تعالے کے لئے تذکل اختیار کر سکے۔اس سے ایسا مطالبہ ہی بیجا ہے۔یہ تو صرف انسان ہی میں قدرت ہے۔پس حقیقی معنوں میں عابد انسان ہی بن سکتا ہے یہ مرتبہ تو ملائکہ بھی نہیں حاصیل کر سکتے۔اس لئے انسان ہی کی پیدائش کی غرض یہ ہوئی کہ خدا کا عہد بنے اور اپنی تمام خوا مہتا تمام ارادوں کو ترک کر کے خدا کے حضور جھک جائے۔پھر انسان کو اس راہ میں کامیاب کرنے کے لئے اور اس کا درجہ بڑھانے کے واسطے کچھ ایکی ششیں بھی رکھیں جو عبادت کے خلاف اس کو کھینچیں۔لیکن ساتھ ہی اپنی طرف سے پکارنے والے بھی بھیجتا ہے جو انسان کا قدم صراط مستقیم سے پھیلنے نہ دیں اور پھر چونکہ ایسے لوگ ایک خاص مدت کے بعد آتے ہیں اس لئے خود انسان کے اندر ایسی طاقتیں نیکی کی رکھی ہیں جوان مورتا بدی پر غالب آسکیں یا کم از کم نیکی اور بدی میں تمیز کر سکیں۔یہ آیت جو میں نے اس وقت پڑھی ہے اس میں ایسے منادوں کا ذکر ہے جو خدا کی طرف سے انسان کو اس کی پیدائش کی غرض پر متوجہ و قائم کرنے کے لئے آتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ انہی ! ہم نے ایک پکارنے والے کی آواز سنی۔وہ آواز کیا تھی۔تجارت یا مال اسباب کی طرف بلانے کے لئے نہ تھی بلکہ وہ ایک پاک عناد کی آواز تھی جو یہ پکارتا تھا کہ انسا نو اتر مان تو کس کو مان لو ؟ امِنُوا بِرَبِّكُم تم اس خدا کو مان لوجس نے پیدا کیا اور ا د نے حالت سے بڑھا کہ بڑے درجے تک ترقی دی۔اس کے احکام کو قبول کرو۔ہم نے اس کی بات کو قبول کر لیا رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا الہی ہم نے مان لیا۔مگر تیرے احکام پر چلنا بڑا بھاری کام ہے پہلے بھی بہت غلطیاں کر چکے ہیں آگے بھی لغزشوں سے از خود محفوظ نہیں رہ سکتے اس لئے آپ سے درخواست ہے کہ حضور رت ہیں چھوٹے سے بڑے کو ترقی دینا آپ کا کام ہے۔پس ہمارے ایمان کو بڑھا دیجئے۔گناہ معاف ہوں۔وَكَفَرَ عَنَّا سَاتِنَا۔روکیں مٹ جائیں بلکہ بدلیوں کو مٹا ہی دیں۔سزا سے بچائیں۔وَتَوَفَّنَا مَعَ الأَبْرَارِ - نیکوں میں شامل کر کے وفات دیں۔ربنا وَاتِنَا هَا وَ عَدتَنَا عَلَى رُسُلِكَ - اپنے رسولوں سے تو نے جو وعدے کئے تھے ، وہ وعدے پورے کر دے۔وَلَا تُخزِنَا يَوْمَ القِيمة اور ہمارے اعمال کو اپنے احکام کے ایسا ماتحت کر دے کہ قیامت تک دکھ اور تکلیف نہ پہنچے تیرے حضور شرمندہ نہ ہوں سزا کے مستوجب نہ نہیں۔به آواز ہے جو منادی دیتے ہیں اور جو اس منار کے قبول کرنے والے کہتے ہیں اور دنیا کے لئے سب سے بڑی عید کا دن تو یہی ہوتا ہے کہ ان میں کوئی آیات اللہ پڑھنے والا، انہیں خدا سے نصرت کی بشارت دینے والا ہو۔انہیں ان کے محبوب و معبود سے ملانے والا ہو۔اس سے بڑھ کر کوئی خوشی کا دن نہیں ہو سکتا۔