خطبات محمود (جلد 2) — Page 161
191 تو ان کی والدہ نے انہیں اپنے کسی عزیز کے پاس بھیجا کہ وہ انہیں کوئی پیشہ سکھا دے یا تجارت کے کسی کام میں ان کی مدد کرے۔ان کے پاس بیس پچیس اشرفیاں تھیں۔ان کی والدہ نے کہا یہ تمہارے باپ کا دورہ شہ ہے میں انہیں گدڑی میں سی دیتی ہوں۔جب منزل مقصود پر پہنچنا تو نکال لینا۔جس قافلے کے ساتھ وہ جا رہے تھے اتفاقا راستہ میں اس پہ ڈاکہ پڑا۔اور ڈاکر والوں نے سب کچھ لوٹ لیا۔کسی ڈاکو نے گزرتے ہوئے ان سے بھی پوچھا کہ کیا تمہارے پاس بھی کوئی چیز ہے انہوں نے میں کھیں جتنی اشرفیاں تھیں بتا دیں اس نے کہا چل ہو قون مجھ سے محول کرتا ہے۔تیرے پاس اشرفیاں کہاں سے آئیں۔انہوں نے کہا نہیں میں مغول نہیں کرتا میرے پاس واقعی اشرفیاں ہیں۔اس کے سمجھا یہ پاگل ہے اور چھوڑ کر چلا گیا۔پھر کوئی دوسرا ڈ اکو گزرا اور اس نے پوچھا تو اسے بھی انھوں نے سچ بتا دیا۔آخر وہ ڈاکو انہیں پچر کر اپنے سردار کے پاس لے گئے اور کہا۔ہم میں سے پوچھتے ہیں تو یہ کہنا ہے کہ میرے پاس بیس پچیس اشرفیاں ہیں، ہمیں تو اعتبار نہیں آتا اب آپ کے پاس لائے ہیں جو حکم ہو اس طرح کیا جائے۔اس نے کہا اس کی گھڑی پھاڑو جب انہوں نے گھڑی پھاڑتی تو اس میں سے اشرفیاں نکل آئیں۔انہوں نے اس پر بڑی حیرت کا اظہار کیا اور کہا تیری گوڑی تو کسی نے دیکھینی نہیں تھی ، پھر تو نے یہ راز کیوں افشا کر دیا ہے انہوں نے نہایت سادگی سے کہا پھر میں جھوٹ کس طرح بولتا۔چوروں پر اس کا اتنا اثر ہوا کہ وہ اسی وقت تائب ہو گئے اور سوانخ والے لکھتے ہیں کہ وہی ڈاکو بعد میں بہت بڑا دلی بن گیا ہیں اسی طرح مشبلی جومشہور صوفی گذرے ہیں۔اور تمام عالم اسلام ان کا ادب اور احترام کرتا ہے، وہ ایک علاقہ کے گورنر تھے مگر نہایت ہی ظالم و جابر جس طرح حجاج بن یوسف اپنے ظلم کی وجہ سے بدنام ہے۔اسی طرح وہ بھی اپنے ظلموں کی وجہ سے بدنام تھے بلکہ حجاج بن یوسف تو شاید ظالم تھا یا نہیں کیونکہ اس کے متعلق اختلاف ہے۔شبلی خود کہتے ہیں کہ میں نہایت ظالم و جابر گورنر تھا اور کوئی فتنہ نہیں تھا جس سے مجھے احتراز ہو۔ہر گناہ کا میں مرتکب ہوا اور نہی علم میں میں نے حصہ لیا۔ان کی ہدایت کا جو اللہ تعالے نے ذریعہ بنایا وہ یہ تھا کہ ایک دفعه وه با دشاہ کے دربار میں بیٹھے تھے کہ ایک جرنیل پیش ہوا جس نے بہت بڑی جنگی خدات سرانجام دی تھیں۔بادشاہ نے اسے بر سر دربار خلوت دیا لیکن بد قسمتی سے وہ رومال لانا بھولوں گیا تھا۔اتفاق ایسا ہوا کہ اسے نزلہ تھا پھینک جو آئی تو نزلہ بہنے لگا۔اب اگر نزلہ پونچھتا تو یہ بد نما معلوم ہوتا۔اور اگر یو پچھتا تو کوئی چیز نہ تھی۔آخر اس نے نظر بچا کر اسی خلعت سے خست اک صاف کر لیا مگر بادشاہ کی نظر پڑگئی۔وہ اپنے عطا کردہ خلوت کی اس بے قدری کو بدرد است ن کر سکا۔اس نے نہایت ہی حصہ میں کہا کہ اس کا خلعت اتار لو اور اس کی تمام جائداد ضبط کر لو