خطبات محمود (جلد 2) — Page 8
ر فرموده ۱۲۰ اکتو برشاشاده بمقام عیدگاه - قادیان) رَبَّنَا اثْنَا سَمِعْنَا مُنَا دِيَاتِنَا دِى لِلْإِيْمَانِ أَنْ أَمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَامَنَّا ربَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِة ربَّنَا وَاتِنَا مَا وَعَدَتَنَا عَلَى رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيمَةِ إِنَّكَ لَا تُخَلِفُ الْمَيْعَادَه فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ آتِي لَا يُضِيعُ عَمَل عَامِلٍ منكم مِّنْ ذِكْرِ او انثى بَعْضُكُم مِّنْ بَعْضٍ فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَ أَخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَوذُوا فِي سَبِيلِي وَقَتَلُوا وَقتِلُو الأَكَفَرَنَ عَنْهُمْ سَيَاتِهِمْ وَلَا دَخِلَنَّهُمْ يَنْتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَرُ، ثَوَابًا مِنْ عِندِ اللهِ وَ اللهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ انسان کی پیدائش کی غرض اور اس کے پیدا کرنے کا مقصد اللہ تعالے نے قرآن مجید میں بیان فرمایا ہے یہ کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلا لِيَعْبُدُونِ ا نہیں پیدا کیا میں نے جن وانس کو مگر اس لئے کہ وہ میری جناب میں معبودیت اختیار کریں ، میں عبد بنا اور خدا تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری اور اس کے حضور میں تذلل ، یہ انسان کی پیدائش کا مقصد ہے۔دوسری چیزیں خدا تعالے کی اطاعت و فرمانبرداری کرتی ہیں۔بلکہ بہت انسان تو خدا کے حکم کو توڑتے بھی ہیں مگر یہ اشیاء حکم کو ہرگز نہیں تو ڑ میں۔پھر اس بات کے فرمانے کے کیا معنے ہوئے کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ جسے عبادت کے لئے پیدا کیا وہ تو نا فرمانی کرتا ہے اور جس کی پیدائش کی یہ غرض بیان نہیں فرمائی وہ نا فرمانی و خلاف ورزی نہیں کرتی۔یہ کیا بات ہے۔اس کے لئے یا درکھنا چاہئیے کہ عبادت کے معنے ہیں تذکل اختیار کرنا خشوع تاہم اپنی تمام محبت، اپنا تمام پیار، تمام تعلق خدا ہی کے لئے کر دیا۔سب چیزوں کو چھوڑ کر سب تعلقات کو قطع کر کے۔تمام برائی اور تجبر کے خیالات کو علیحدہ کر کے خدا کے حضور جھک جانا ہیں اور محبت و پیار کا اعلیٰ سے اعلی درجہ حاصل کرنا۔یہ بات ہم دیکھتے ہیں اور کسی چیز میں نہیں پائی جا سکتی۔کیونکہ یہ تو اسی ہستی میں ہو سکتی ہے جو کچھ قدرت رکھتی ہو جس کے اندر یہ جس ہی نہیں پڑدہ ہی نہیں۔یہ طاقت ہی نہیں کہ دو چیزوں میں سے ایک کو چھوڑ کر دوسری کو اختیار کرے اور