خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 149

" * شکایت کی کہ یہ ہمارے گاہک خراب کرتا ہے اور چچا نے ابر اسمجھ کو خوب مار الله پرانی تاریخیں کوئی ایسی محفوظ نہیں اس لئے تم نہیں کہ سکتے کہ اس واقعہ میں کہاں تک صداقت پائی جاتی ہے۔لیکن بیوردی تاریخیں یہی بیان کرتی ہیں اور تنتجب نہیں کہ یہ واقعہ صحیح ہو۔اور بغیر کسی قسم کی آمیزش کے ہو۔ہر حال معلوم ہوتا ہے کہ یہودی قوم میں اس قوم میں جو ابراہیم کی نسل سے چلی ، یہ بات مسلمہ ہے کہ ابراہیم کو بچپن سے ہی شرک کے خلاف جذبہ عطا کیا گیا تھا پیشتر اس کے کہ آپ نہیں ہوتے پیشتر اس کے کہ آپ وحی الہی سے برکت دیئے جاتے اور بیشتر اس کے کہ آپ اللہ تعالے کی طرف سے ہدایت پاتے آپ کا نفس ہی ان باتوں سے متنفر تھا۔اور در اصل ہر نبی خدا تعالے کی اسی قسم کی برکت پایا کرتا ہے ہمارے آنحضرت صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت سے قبل زندگی کا بھی ایک واقعہ تاریخوں میں بیان ہوا ہے۔زید ایک شخص تھے حضرت عمر کے رشتہ دار انہیں شرک کے خلاف توحید کے خیالات یہود سے سننے کا موقعہ ملا تھا اور وہ موحد ہو گئے تھے وہ جہاں جہاں جاتے توحید کی تائید میں لیکچر دیتے ایک دفعہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں بھی آئے اور جب ان کے سامنے کھانا رکھا گیا تو و انہوں نے کہا میں شرک کرنے والوں کا کھانا نہیں کھا یا کرتا۔رسول کریم صل اللہ علیہ وآلہ سلم نے کہا۔میں نے کبھی شرک نہیں کیا نتیجس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی نبوت سے پہلے ہر قسم کے مشہر کا نہ باتوں سے محفوظ اور اللہ تعالے کی حفاظت میں تھے بغیر حضرت ابراہیم جن کا میں واقعہ بیان کر رہا ہوں بچپن سے ہی توحید کے موید اور شرک کے مخالف تھے۔مگر ایسی قوم میں پیدا ہو کہ جو رات دن شرک میں مبتلا رہتی اور ایسی قوم کے حالات اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود انہوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ان کی اصلاح نہیں ہوسکتی کبھی یہ نہیں کہا کہ ران شرک میں مبتلا لوگوں کو بچایا نہیں جاسکتا۔جب انہوں نے شرک کے خلاف اللہ تعالے سے ہدایت پا کر تعلیم دینی شروع کی تو ان کی قوم نے ان کی باتوں کو تسلیم نہ کیا۔بلکہ طرح طرح کے کچھ دیئے۔آپ کی مخالفت کی بیہانتک کہ آگ جلائی اور اس میں آپ کو ڈالا۔قرآن کریم سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ میں ان کے لئے آگ جلائی گئی اس میں ان کو پھینکا گیا۔اور پھر وہ آپ آپ کے لئے ٹھنڈی کی گئی یہ ممکن ہے بارش ہوگئی ہو یا اور کوئی ایسے سامان پیدا ہو گئے ہوائی۔رش انتہائی تکالیف کے ذریعہ آپ کو توحید سے روکنے کی کوشش کی گئی۔مگر آپ نے کبھی یہ خیال نہ کیا کہ یہ دکھ دینے والے کہاں ہدایت پا سکتے ہیں، چلوان کو چھوڑو۔پس ابراہیم کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ مومن کو کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیئے اور کبھی یہ خیال نہیں کرنا چاہیئے کہ لوگوں کو دات کی رو اور کی کی یوگی حضرت ابراہیم کے لئے اندرونی مش است