خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 142

۱۴۲ ۲۰ ر فرموده ارا پریل ا بمقام باغ حضرت کی موعو علی السلام فارنیا) گلے کی خرابی اور بعض دیگر تکالیف کے باعث میں زیادہ دیر نہیں بول سکتا اور اسی طرح اونچی آواز سے بھی نہیں بول سکتا۔لیکن عید کا خطبہ چونکہ عبادت کا ایک جزو ہے کہ اس وقت بولٹ بھی ضروری ہے۔اس لئے میں اختصار کے ساتھ دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ شریعیت کے بعض احکام نظاہر تھیوے ہوتے ہیں لیکن ان کے اندر بڑی حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ ایک شخص اس بات پر مجھ سے گفتگو کر رہا تھا کہ داڑھی رکھنا ضروری ہے یا نہیں مختلف دلائل سننے کے بعد اس نے کہا۔میں نہیں سمجھ سکتا روحانیت کی بنیا د چند بانوں کے رکھنے یا نہ رکھنے پر کیونکر ہو سکتی ہے۔بظاہر یہ نہایت ہی دھوکہ دینے والا فقرہ تھا۔ہیم اس وقت علیحدہ گفتگو کر رہے تھے۔ممکن ہے اگر مجلس میں یہ کہا جاتا۔تو بعض کو اس سے ٹھو کر بھی لگتی۔میں نے اس وقت اسی رنگ میں ایک ہی فقرہ میں اسے جواب دیا۔میں نے کہا میں تسلیم کرتا ہوں کہ روحانیت کی بنیاد چند بالوں کے رکھنے یا نہ رکھنے پر نہیں لیکن روحانیت کی بنیاد رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت پر ضرور ہے جس سے میرا مطلب یہ تھا کہ داڑھی کا تعلق براه راست روحانیت سے بے شک نہیں لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت کا تعلق براہ راست روحانیت سے ہے اور جب آپ کا ارشاد ہے کہ داڑھی رکھو نہ تو کو داڑھی اپنی ذات میں روحانیت کا موجب نہ ہو لیکن جب آپ کا حکم توڑا جائیگا تو یقینا ایسا انسان کوتا نے محروم ہو جائے گا۔اگر اس اعتراض کا میں تفصیلاً جواب دوں تو معلوم ہوگا کہ یہ نہایت ہی بودا ہے لیکن میں نے صرف یہاں اسے بطور مثال پیش کیا ہے کہ بعض چھوٹی باتیں بڑے اثرات پیدا کرتی ہیں۔نمازوں میں صفوں کی درستی نظا ہر معمولی بات ہے اور یہ کوئی اہم بات نظر نہیں آتی کہ ایک آدمی کچھ آگے کھڑا ہو جائے یا کچھ پچھے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ صفوں کو درست کر و دیگر ز تمہارے دل ٹیڑھے ہو جائیں گے کہے بات کتنی معمولی تھی لیکن نتیجہ کیسا عظیم الشان نکلا۔مجھے اس کے متعلق ایک واقعہ یاد آیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے زمانہ میں کچھ لوگوں میں روزوں کے متعلق بحث ہو رہی تھی کہ کس وقت روزہ رکھنا اور کس وقت افطار کرنا چاہیئے۔ایک شخص کا خیال تھا کہ جب ایک شخص خدا تعالے کے لئے سارا دن بھوکا رہتا ہے تو اگر اس نے 4 نیت