خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 5

حکم دیا کہ اپنے بچے اور اس کی ماں کو جنگل میں چھوڑ آؤ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نہیں پوچھتے۔کہ ان کے کھانے، ان کے پینے کا وہاں کیا بندوبست ہوگا۔جنگل کے درندے تو انہیں نہیں کھا جائینگے یہ کہاں رہیں گے اور کون ان کا خبر گیراں ہو گا۔وہ بلا کسی سوال اور عذر معذرت کے قبت اُن کو نیکل میں چھوڑ کر واپس آجاتے ہیں تو یہ قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کی تھی اور ایسی ہی قربانی اللہ تعالئے بڑا ایک مسلمان سے چاہتا ہے۔یہ ایک مسلمہ بات ہے کہ جس چیز سے محبت ہوتی ہے اس کے لئے انسان سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہو جاتا ہے۔اس وقت ہی دیکھ لو۔دنیا میں ایک قربانی ہو رہی ہے کوئی اپنے وطن کے لئے ، کوئی اپنی تجارت کے لئے، کوئی اپنی عورت کے لئے، کوئی اپنی آبرو کے لئے، اور کوئی اپنے احسان کا بدلہ اتارنے کے لئے جانیں قربان کر رہے ہیں اور آج دنیا میں ایک نہایت خطرناک جنگ ہو رہی ہے یہ اور بکروں اور دنبوں کی طرح انسان قتل ہو رہے ہیں اور خون کی ندیاں پانی کی طرح بہہ رہی ہیں۔ایک دن میں لاکھ لاکھ اور دو دو لاکھ انسان ہلاک ہو رہے ہیں۔لیکن مرنے والوں کی جگہ دوسرے بڑی خوشی سے لیتے اور لڑتے ہیں۔ایک مردہ ہو کر کرتا ہے تو دوسرا خوشی سے اس کی جگہ کھڑا ہو جاتا ہے۔اور ایسے خاندان بھی ہیں جن کے اگر آٹھے جوان تجھے تو آٹھوں ، اگر چار تھے تو چاروں جنگ میں شریک ہیں معینی ساری کی ساری اولاد لڑ رہی ہے۔کیا تمھیں معلوم نہیں کہ یہ کیوں اس طرح کر رہے ہیں۔یہ اپنی آبرو۔اپنے وطن اپنی تجارت اپنی عزت اور اپنے اموال کے لئے جانیں قربان کر رہے ہیں۔اور کچھ لوگ احسان کی خاطر جو کہ اُن پر کیا گیا اپنی جانیں دے رہے ہیں۔ایک کہتے ہیں کہ ہم جرمن ہیں ہم کسی سے نہیں ہار سکتے۔ایک کہتے ہیں ہم فرانسیسی ہیں۔ہم فرانس کی خاطر اپنی ہستی مٹادیں گے اور جیتے جی اس پر کسی کو قابض نہ ہونے دیں گے۔ایک کہتے ہیں ہم برطانوی ہیں ہم کبھی کسی کے ماتحت نہیں رہے اور نہ رہ سکتے ہیں۔ایک بلجیم کے رہنے والے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہم معاہد کے خلاف نہیں کریں گے تو یہ لوگ ان باتوں کے لئے اپنی جانوں کی قربانیاں کر رہے ہیں۔پھر کس قدر شرم کی بات ہے کہ ایک مسلمان خدا کے لئے کوئی قربانی نہ کرے۔یہ قوت ، آبرو وطن اور مال کے لئے پانی کی طرح خون بہاتے اور اس پر فخر کرتے ہیں کہ ہم اپنے وقار کے لئے لڑ رہے ہیں۔حالانکہ ان کی غرض محض دنیا ہی دنیا تک محدود ہے اور دین کی قطعا کوئی بات ان کے مد نظر نہیں۔لیکن خدا تعالے ایک مسلمان سے اس لئے قربانی چاہتا ہے کہ وہ اس کا خالق اور رازق ہے۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ بہت کم ایسے مسلمان ہیں جو خدا کے لئے قربانی کرتے ہیں۔