خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 119

119 י! و موده ۳۰ رستن ماده بهنام باغ مقداری موعود الاسلام قادیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت تھی اور آپ کا یہ طریق تھا کہ اس عید کے موقعہ پر آپ نماز جلدی پڑھایا کرتے تھے اور خطبہ بھی مختصر فرماتے تھے بیلہ نا کہ جن لوگوں نے قربانی کر نی ہو وہ نماز سے فارغ ہو کر یا اگر خطبہ سننا چاہیں تو خطبہ شنکر قربانی کر سکیں۔ہمارے ملک میں چونکہ اسلامی عادات اور طریق کی بہت کمی ہے اس لئے خاصہ طور پر اس عید اور اس سے پہلی عید کی نمازوں کے وقت میں زیادہ فرق نہیں کیا جاتا۔میرا منشاء ہے کہ رسول کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو جاری کیا جائے لیکن اگر میدیم تغیر کیا جائے تو خطرہ ہے کہ بہت سے لوگ نماز سے محروم رہ جائیں اس لئے آہستہ آہستہ اس سنت کو جاری کیا جائے اور لوگوں کو عادت ڈالی جاے کہ اس عید کی تیاری صبح ہی سے شروع کر دیا کریں۔اور وقت پر نماز کے لئے پہنچ جایا کریں حضر مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں اس لئے عید کی نمازوں کے متعلق انتظار کیا جاتا تھا کہ یہاں جماعت کم تھی اور باہر سے بہت سے دوست آیا کرتے تھے۔ان کے آنے پر عید کی نماز ہوتی تھی۔لیکن اب حالات متغیر ہو رہے ہیں باہر سے آنے والے دوستوں کی تعدا د نسبتاً کم ہوتی جا رہی ہے۔اور مقامی دوستوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ارد گرد کے گاؤں کے لوگوں کو شامل کر کے جو عید کی نفسانہ کے لئے قادیان میں آتے ہیں میرے نزدیک یہاں کی تعداد ڈیڑھ دو ہزار کے قریب ہو جاتی ہے۔اور باہر سے آنے والے درست ۱۰-۲۰ سے زیادہ نہیں ہوتے۔اس طرح یہاں کے اور باہر سے آنیوالے دوستوں میں اس قدر فرق ہو گیا ہے کہ باہر سے آنے والوں کی خاطر ہم اس حکم سے ہمیشہ کے لئے دستبردار نہیں ہو سکتے جس کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد موجود ہے۔باہر کے تو دوست نماز میں شامل ہو سکیں اور خدا تعالے نے اس مقام کو برکت دی ہے اس لئے جس قدر بھی آسکیں آئیں۔ان کو آئندہ یا تو شام کو ہی با زیادہ سے زیادہ صبح سویرے یہاں پہنچ جانا چاہیئے۔بہر حال اس عید کی نماز کو سنت کے مطابق ادا کرنے کی نہیں آہستہ آہستہ کوشش کرنی چاہیئے۔اس کے بعد میں اس عید کے ہی ایک حکم کے متعلق مختصرا ایک بات کہنی چاہتا ہوں۔یہ عید قربانی کی عید ہے۔اس موقعہ پر قربانیاں کی جاتی ہیں اور یہ عید یادگار ہے حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے ایک فعل کی۔جب انہوں نے خدا کے حکم کے ماتحت اپنے بچے کو قربان کر دیا۔میں نے جیسا کہ