خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 116

پیدا کرو تو اس کے بدلے میں ہمیشہ اس میں نبوت رکھی جائے گی۔اور اس میں کیا شبہ ہے کہ نہیں قوم کی نسل پاک ہو اس پر خدا کے فضل نازل ہوتے ہیں۔پس اگر تم بھی چاہتے ہو کہ الہ تعالے کے فیوض تم پر اور تمہاری اولاد پر ہمیشہ نازل ہوتے رہیں تو اپنی اولاد کو دنبہ کی طرح یہ پالو بلکہ اس کی روحانی اصلاح کی شکر کہ وہ خدا تعالے کی محبت اس کے دل میں پیدا کرو۔خدا تعالے کا قرب حاصل کرنے کی تڑپ اس میں پیدا کر و۔گرفتم اولاد کی اصلاح کی طرف اس طرح توجہ کرو گے اور حیوانوں کی طرح اس کی پرورش نہ کرو گے بلکہ انسانوں کی طرح کر دگئے تو انسانیت اس میں مذہب کے طور پر قائم ہو جائیگی۔اور جب یہ قائم ہو جائے گی تو خدا تعالے کے فضل بھی نازل ہوں گے۔چنانچہ اسی کا نتیجہ تھا کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بچہ کی قربانی کی اور اسے دادی غیر ذی زرع میں رکھا اور اپنی طرف سے اس کی تربیت کی پوری پوری تدبیر کی تو خدا تعالے نے اس کے بدلہ میں آخری نبوت جس کے بعد اور کوئی مشرعی نبوت نہ تھی اس کی نسل میں رکھی یعنی رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت اسمعیل علیہ السلام کی نسل میں سے پیدا ہوئے جن کے بعد آپ کے خاندان سے باہر ہوت نہیں جا سکتی۔پس جب خدا تعالے نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ تمہاری اولاد میں نبوت رہے گی تو اس کا مطلب یہی تھا کہ تیری نسل میں سے وہ نبی آئیگا جو ساری دنیا کی طرف بھیجا جائے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد سے پہلے مصریت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں جو نبوت تھی وہ چند خاندانوں میں تھی اور باقی سب اس سے محروم تھے۔کون کہ سکتا تھا کہ سب کو خدا تعالے نے نبوت کے انعام سے اس لیئے محروم رکھا کہ ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں نبوت رہے۔بلکہ اس کا یہی مطلب تھا کہ آخری شریعی نبی جو ساری دنیا کی طرف آئے گا وہ ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے ہو گا۔اور اس طرح سب کو نبوت کا فیض پہنچ جائے گا۔پس یہ جیسے قربانی کی عید کہا جاتا ہے یہ دراصل اولاد کی قربانی کی عید ہے۔جب بجرے اور دینے کی قربانی کی جاتی ہے تو اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ ہماری اولا وجوان ہو کر ڈ نے نہ بنے گی بلکہ خدا تعالے کی محبت اور الفت میں اپنے دونبدین کو ذبح کر چکی ہوگی۔اس کا مطلب نہیں کہ اولاد کو کھانا اچھا نہ دیں۔کپڑا اچھا نہ دیں بلکہ یہ ہے کہ ان کی زندگی کھانے پینے کے لئے نہیں بنائیں گے۔ورنہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ آمَا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَةِ ت له که خدا تعالے کی طرف سے جو نعمت ملے اس کا اظہار کرو۔پس اظهار نعمت منع نہیں۔یہ منع ہے کہ اپنی زندگی اور اولاد کی زندگی ایسی نہ ہو کہ اس میں انسانیت نہ رہے اور حیوانیت ہی تیوانیت