خطبات محمود (جلد 2) — Page 114
۱۱۴ آگ کو ٹھنڈا کر دیا۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام صیحیح سلامت نکل آئے۔چونکہ ثبت پرست بہت وہی ہوتے ہیں اس لئے جب ادھر انہوں نے آگ جلائی اُدھر بادل آگیا اور آگ بجھ گئی توانہوں نے سمجھا خدا کی مشیرت یہی ہوگی اس لئے انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو چھوڑ دیات یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذاتی قربانی تھی۔اس کے بدلہ میں اللہ تعالے نے انہیں فاتی کمال بخشے اور وہ مقام عطا کیا جس کی وجہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نام قیامت تک مٹ نہیں سکتا۔اس کے بعد دوسری قربانی اولاد کی قربانی تھی اس میں بھی حکمت تھی اور وہ یہ که حضرت ابراہیم علیہ سلام سے قبل تمدن قائم نہ ہوا تھا اور اہلی زندگی کمال کو پہنچی تھی انسان کا کمال ذاتی اور شخصی زندگی تاک تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ اہلی زندگی کا دور قائم کیا گیا۔اس کے لئے حضرت ابراہیم علیہ سلام کو ر و یا دکھائی گئی جو یہ تھی کہ وہ بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔اللہ تعالے جانتا تھا کہ ابراہیم اس کا وفادار بندہ ہے تو کچھ اس نے دیکھا ہے، اسے پورا کر دے گا۔مگر اس طرح وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک سبق دینا چاہتا تھا جب انہوں نے لوگوں کے دستور کے مطابق اپنے بیٹے سے کہا کہ میں تمھیں قربان کرنا چاہتا ہوں اور بیٹا بھی اس کے لئے تیار ہو گیا تو خدا تعالے نے کہا: یہ نہیں دینہ لو اور اسے ذبح کرد وہ بیٹے کی قربانی کا قائم مقام ہو گا۔اب یہ سیدھی بات ہے کہ بیٹا اور دنیہ برابر نہیں ہوسکتے۔اگر کسی کو توفیق ہو تو وہ ہزار ڈائنہ بھی قربان کر دے گا مگر بیٹا قربان نہ کرے گا۔پس دُنبہ بیٹے کا قائم مقام نہیں۔نہ ایک نہ دس نہ ہزار نہ لاکھ نہ دس لاکھ۔ممکن ہے کسی کو توفیق نہ ہو اور وہ ایک دنبہ بھی اپنے بیٹے کی بجائے نہ دے سکے۔لیکن اگر توفیق ہو تو مال کا آخری تبہ تک دے دیگا مگر بیٹے کو ذبح نہ ہونے دے گا۔اگر ایک شخص دس لاکھ دنبہ ذبح کرنے کی طاقت رکھتا ہے تو وہ اسے اپنے لئے بہت آسان سمجھے گا بہ نسبت اس کے کہ اپنے بیٹے کو ذبح ہونے دے۔پھر ایک دنبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے کس طرح ان کے بیٹے کا قائم مقام بن گیا۔وہ مالدار انسان تھے ان کی ہزار ہا بھیڑ بکریاں اور گائیں تھیں اور ان کے ہال کا یہ حال تھا کہ ان کے ہاں اجنبی آتے ہیں ان کے آگے بغیر پوچھے بچھڑ ا ذبح کر کے رکھ دیتے ہیں اور وہ کھاتے ہی نہیں۔ایسے انسان کے لئے ایک دنبہ کیا ہستی رکھتا ہے۔وہ تو کتے کے پتے کے لئے بھی دنبہ ذبح کر سکتے تھے۔پھر ان کے لئے اسمعیلی کی خاطر دنبہ ذبح کرنے میں کونسی مشکل تھی۔اور اگر کوئی مشکل نہ تھی تو سمعیلی کے بدلے ایک دنبہ کسی طرح قبول ہوا۔بات یہ ہے دنبہ آسٹیل کے بدلے ذبح نہیں ہوا۔بلکہ اس میں اور حکمت تھی اور وہ حکمت یہی تھی جس سے اصلی اور تحقیقی زندگی کا دور شروع ہوا۔عام طور پر انسان اولاد کو خوب کھلاتا پلاتا اور اس کی خاطر کرتا ہے۔جتنی زیادہ ناجائز