خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 113

ہیں اور بکرے کی قربانی کر دیتے ہیں مگر نہیں جانتے کہ بکرے کی قربانی کس بات کی علامت ہے اور خدا تعالے نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کیا چاہا تھا۔میں نے اس وقت حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی دو قر با نیوں کا ذکر کیا ہے ان میں سے میں پہلے اس قربانی کو لیتا ہوں جس میں خدا تعالے نے چاہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ اپنی درت دکھائے اور ایک عظیم الشان نشان قائم کمیتے۔اس وقت با مشکل ممکن تھا کہ حضرت براہیم علیہ السلامہ وہ ملک چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں چلے جاتے اور اس طرح اپنی جان بچی لیتے مگر انہوں نے ایسا نہ کیا۔اور خدا تعالے کے حکم کے ماتحت اپنی جان دینے کے لئے تیار ہوگئے۔یہ اس وقت ہوا جب عراق میں ان کی قوم نے فیصلہ کیا کہ ان کو جبل دیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام بچپن سے ہی ایسی فطرت رکھتے تھے جو توحید کی تائید میں اور مشرک کے خلاف تھی چنا نچہ جب ان کے رشتہ داروں نے ان سے مشرک کے متعلق مباحثہ کیا تو انہوں نے سختی سے اس کا د کیا۔ان کا ایک خاندانی بت خانہ تھا اس سے عملی طور پر نفرت اور مشرک سے بیزاری کے اظہار کے لئے انہوں نے اس طرح کیا کہ بتوں کو توڑ دیا یت یہ بہت جس کتبخانہ کے توڑے گئے وہ کسی دوسرے کا نہ تھا۔اگر دوسروں کا ہوتا تو اس کا توڑ نا جائز نہ ہوتا۔یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خاندان کا تھا اور انہیں ورثہ میں ملا تھا۔اور چونکہ پتھر پتھر ہی ہوتا ہے۔اس لئے انسان کی ملک تھا انہوں نے اس بت خانہ کو کہ جو اُن کے لئے آمدنی کا ذریعہ اور عورت کا باعث تھا توڑ دیا، جب انہوں نے بتوں کو توڑا تو سارے ملک میں جوش پیدا ہو گیا۔اور بادشاہ کے سامنے یہ معاملہ پیش ہوا۔ملک کے دستور اور بادشاہ کے قوانین کے مطابق اس فعل کی سزا جلا دینا تھا اور اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے موقع تھا کہ بہتوں کو توڑانے کے بعد اس ملک سے باہر چلے جانے مگر وہ نہ گئے حالانکہ جانتے تھے کہ ملک کے قانون کے مطابق اس کی سزا حبل دنیا ہے۔یہ ایک پرانی رسم تھی کہ جو بتوں کی بہتنگ کرتا اسے جلا دیا جاتا۔کیونکہ بتوں کی ہتک کرنے کو ارتداد سمجھا جاتا اور ارتداد کی سزا پرانے زمانہ میں یا تو جلا نا محتی یا سنگسار کرتا۔چنانچہ یورپ میں جب پروٹسٹنٹ عقیدہ کے عیسائی پیدا ہوئے تو انہیں مرتد قرار دے کر آگ میں جلا دیا جاتا تھا تے اس کے مقابلہ میں ایشیا میں سنگسار کرنے کا رواج تھا ہے تو حضرت ابراہیم علیہ اسلام کو معلوم تھا کہ بتوں کو توڑنے کی وجہ سے کیا سزا ہو گی۔اور وہ وہاں سے بھاگ سکتے تھے مگر خدا تعالئے چاہتا تھا کہ نشان دکھائے اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا ، ٹھہرو اور وہ ٹھہرے رہے اور اس طرح اپنے نفس کی قربانی کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔آخر ان لوگوں نے آگ جملاتی اور اس کے اندر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ڈال دیا لیکن عین اس موقع پر بادل آیا جس نے