خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 4

اپنی اولاد کی قربانی کرتے ہیں ان کی اولاد دنیا میں کبھی ضائع نہیں ہو سکتی۔مس آج تم دیکھ لو کہ ملکوں کے ملک آباد ہیں۔اور ہزار ہا ایسی قومیں ہیں جو اپنے آپ کو حضرت اسمعیل علیہ السلام کی اولا دیتا تی ہیں۔تو خدا تعالے لئے اولاد کو اپنی راہ میں قربان کرنے کا طریقہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بتایا۔اور یہ بھی ظاہر کر دیا کہ وہ لوگ بے وقوف اور کم عقل ہیں ، جو چھری سے اپنے بیٹوں کو ذنبج کر کے خدا کی راہ میں قربانی دیتے ہیں۔یہ ان کی قربانی کسی کام کی نہیں ہوتی اور نہ اس کا کوئی نتیجہ ان کے لئے مرتب ہوتا ہے۔اصل قربانی اپنی اولاد کو خدا کی راہ میں وقف کر دینا ہوتی ہے۔اور یہ ایک بیچ کی طرح ہوتی ہے جس سے آگے لاکھوں دانے پیدا ہوتے ہیں۔اور کبھی ایسی قربانی ضائع نہیں ہوتی۔آج مکہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یاد تازہ کرنے کے لئے ہزار ہا قربانیاں ہو رہی ہیں اور وہی یاد گار قائم کی جارہی ہے شہ تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مثال کو دیکھو وہ کس طرح اس جنگل میں اپنے بیٹے کو چھوڑ کر چلے گئے تھے اور خدا نے جنگل سے ہی اس کے لئے پانی اور دانہ مہیا کر دیا۔یہ بڑا دردناک واقعہ ہے۔حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت ہاجرہ کو بمعہ ان کے بچے کے اس جنگل میں چھوڑ چلے تو حضرت ہاجرہ نے پوچھا کہ آپ ہمیں یہاں کس کے بھروسہ پر چھوڑ چلے ہیں جہاں نہ پانی ہے نہ کھانا ، نہ کوئی ساتھی ہے اور نہ مددگارہ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ میں تم کو خدا پر چھوڑ چلا ہوں۔انہوں نے کہا۔بس جاؤ۔اب ہمیں کسی کی پر واہ نہیں۔ہمارے لئے ہمارا خدا کافی ہے۔جب وہ مشکیزہ پانی کا جو حضرت ابدہ الہیم علیہ السلام ان کے لئے چھوڑ گئے تھے ختم ہو گیا اور اہم کھیل پیاس کی وجہ سے رونے لگا۔اور وہاں ارد گر دہانی چھوڑ کہیں سبزہ بھی نہ تھا تو اس وقت حضرت ہاجرہ گھبرائیں اور بچے کو بلبلاتا ہوا ان سے نہ دیکھا گیا تو ادھر اُدھر پانی کی تلاش میں دوڑنے لگیں۔لیکن وہاں پانی کہاں مل سکتا تھا۔خالی ہاتھ واپس بچے کے پاس آئیں۔مگر بچہ کی شکل دیکھ کر پھر گھبراگئیں۔اور بچے کے اضطراب اور مطلبلاہٹ کو نہ دیکھ سکیں پھر دوڑنے لگیں۔آخر کار ایک فرشتہ کے ذریعہ انہیں معلوم ہوا کہ ایک چشمہ پھوٹا ہے۔وہ اس جگہ آئیں اور اس چشمہ کو پایا۔جس کو آب زمزم کہا جاتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر ہاجرہ اس چشمہ کو روک نہ دیتیں تو یہ دور دور تک پھیل جاتا ہے تو یہ ایک قربانی تھی آج بھی قربانیاں کی جائیں گی۔لیکن ان قربانیوں کے کرنے والوں کو خیال کرنا چاہیئے کہ یہ قربانیاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی سے کیا نسبت رکھتی ہیں ان کی تو یہ قربانی منفی کہ خدا تعالٰی نے غالبا یہاں کچھ الفاظ رہ گئے ہیں حضور رضی اللہ عنہ کے کہنے کا مشاء یہ ہے کہ میں تمہیں خدا کے تہار چھوڑ چلا ہوں (مرتب)