خطبات محمود (جلد 2) — Page 107
106 اس کام کو کر ہی لیا۔غرض حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ و اسلام کی اس فرمانبرداری کا یہی نتیجہ ہے جئے کہ بائیبل میں ان کے متعلہ آتا ہے۔اسے ابراہیم ! میں تیری نسل کو ریت کے ذروں کی طرح پڑھا و نگار اور وہ کمیت اور تعداد اور زمانہ اور مکان کے لحاظ سے بھی بڑھے گی اور دنیا کے پھیلاؤ کے لحاظ سے وہ پھیلے گی اور ہر زمانہ کے لحاظ سے اسے برکت دی جائے گی۔یہ سب ابراہیمی قربانی تھی جو اس قدر پھل لائی۔اب دیکھنا چاہیئے کہ ابو اسیمی قربانی کیا تھی۔وہ قربانی بالیقین ترتیوں کا ذریعہ تھی جس کے ذریعہ ان کی نسل بڑھی پھلی اور پھولی۔آج ہمیں بھی یہی دیکھنا چاہیئے اور ہمیں بھی کوشش کرنی چاہیئے کہ ہم بھی خدا کی محبت کے سامنے سب محبتوں کو قربان کر سکیں تاہم بھی ترقی حاصل کرنے والے نہیں۔اگر کوئی قوم ضائع ہوتی ہے تو اسے دیکھنا چاہیے کہ کس طرح وہ بچ سکتی ہے اس کا ضائع ہونے سے بچنا اور غالب آنا اسی طرح ہو سکتا ہے کہ وہ ابراہیمی قربانی کرے۔ابراہیمی قربانی کیا ہے۔خاندان کے تمام افراد کی قربانی ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ آپ نے خواب میں دیکھا نہیں قربانی کہ رہا ہوں۔اور اس کے مطابق قربانی کرنے کی آپ نے کوشش بھی کی مگر چونکہ خدا تعالے کی یہ منشاء نہ تھی اس لئے وہ اس رنگ میں نہ ہوئی ملکہ اس رنگ میں ہوئی جو خدا تعالے کی منشاء کے مطابق تھا۔اور خدا تعالے کی منشاء یہ تھی کہ وہ اپنی اولاد کی محبت کو قربان کر دیں اور اسے دُور جنگل میں چھوڑ آئیں۔خاندان کا مجموعہ مرد بیوی اور اولاد ہوتی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خاندان کا بھی یہی مجموعہ تھی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام خود، حضرت باجرہ اور حضرت اسمعیل۔یہ تینوں تھے جن سے یہ خاندان تھا۔مگر خدا کے لئے آپ نے حضرت اسمعیل علیہ السلام اور ان کی ماں ہاجرہ کو دور جنگل میں چھوڑ دیا اور یوں ان کی محبتوں کو قربان کر دیا۔وہ چھری جو خواب میں اولاد کو ذبح کر رہی تھی ، وہ یہی تھی جو اس رنگ میں چلی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نہ صرف اپنی اولاد کی قربانی کی بلکہ خدا کے لئے اپنی اولاد کے ساتھ اپنی بیوی کی بھی قربانی کردی۔پس یہ قربانی اکیلئے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی ہی نہ تھی بلکہ حضرت اسمعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ کی بھی تھی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تو اس طرح کہ وہ خدا کے لئے اپنے لڑکے کو جنگل میں چھوڑ آئے۔حضرت اسمعیل علیہ السلام کی اس طرح کہ انہوں نے خدا کے لئے جنگل میں چلے جانا منظور کر لیا۔اور حضرت ہاجرہ کی اس طرح کہ وہ خدا کے لئے حضرت ہمیل علیہ السلام کو لے کر جنگل میں چلی گئیں۔اس وقت اسحق نہ تھے، وہ بعد میں پیدا ہوئے تھے یہ قربانی صرف ان تینوں کی تھی۔اور ان تینوں کی ہی قربانی مکمل ہوگئی اور یہ اس قربانی کا مکمل ہونا ہی تھا جس کے بعد خدا تعالے نے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ و السلام سے یہ وعدہ کیا کہ تیری اولاد