خطبات محمود (جلد 2) — Page 98
4^ حضرت موسی علیہ السلام کے وقت میں لوگ تزکیہ میں یکدم ترقی کر گئے۔لیکن حضرت علیئے علی الصلو و اسلام کے وقت چونکہ قربانی آہستہ آہستہ تھی، تزکیہ بھی آہستہ آہستہ ہوا۔حضرت موسیٰ کے وقت ایسا نہیں ہوا۔ان کے وقت یہ باتیں معا ہوئیں اور لوگ تربیت میں تیزی کے ساتھ بڑھ گئے تزکیہ میں بھی سرعت کے ساتھ ترقی کرلی۔اور عام ترقی میں بھی اس وقت کھے لوگوں پر فوقیت حاصل کر لی۔حتی کہ حضرت موسی کے زمانہ میں لوگوں کو اس قدر الہام ہوتے تھے کہ لوگوں کو شبہ پڑ گیا تھا کہ شاید یہ بھی بنی ہو جائیں گے۔قرآن کریم میں جو واقعات ان کے بیان کئے گئے ہیں وہ ان کی عام حالت نہیں وہ یہود پر محبت پکڑنے کے لئے لائے گئے ہیں۔اور اگر ان واقعات کو ان کی عام حالت سمجھ لیا جائے تو یہ درست نہ ہوگا۔کیونکہ جو مثالیں بیان کی گئی ہیں وہ جرم کی مثالیں ہیں۔ورنہ عام حالت معا روحانی ترقی کرتی چلی گئی ہے۔توریت میں آتا ہے لوگوں نے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس آکر شکایت کی کہ آپ کے ماننے والے کثرت سے انعام پانے کا دعوی کرتے ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام نے کہا کہ میں تو چاہتا ہوں سب نبی ہو جا ئیں۔تو حضرت موسی علیہ الصلوۃ و السلام کی قوم در حقیقت روحانی ترقی کے منازل کو بہت جلدی طے کر گئی تھی لیکن اس کے بالمقابل عیسائی قوم کی ترقی آہستگی سے ہوئی۔وہ بہت جلدی اور فورا روحانیت کے اعلیٰ مدارج پر نہ پہنچ گئی تھی بلکہ آہستگی سے روحانی مدارج پر چڑھی کیونکہ اس کی قربانی بھی آہستگی کے ساتھ ہوئی۔سو جہاں قربانی فوری اور یکدم ہوگی وہاں ترقی تزکیہ اور روحانیت بھی فوری طور پر ترقی کرے گی۔اور جہاں قربانی آہستگی کے ساتھ ہوگی وہاں ترقی۔تزکیہ اور روحانیت بھی آہستگی کے ساتھ بڑھے گی۔چونکہ موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت میں قربانی فوری ہوئی۔اس لئے ان کی ترقی بھی فوری ہوئی۔اور حضرت موسی علیہ السلام کے جتنے بھی مثیل ہوں گے ان میں جلدی طہارت۔تزکیہ نفس روحانیت اور ترقی پیدا ہوگی اور یو نکہ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت میں قربانی آہستگی کے ساتھ ہوئی اس لئے عیسوی مماثلت کے سلسلے میں جتنے سلسلے ہوں گے۔ان میں طہارت۔تزکیہ نفس روحانیت اور عام ترقی آہستگی کے ساتھ ہو گی۔چند دن ہوئے میں نے سُنا بعض لوگ کہتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو لکھا ہے تین ماہ میں اگر ایک پیسہ بھی چندہ دید و تو کافی ہے کیے مگر یہاں آپ لحظہ لحظہ اسے بڑھا رہے ہیں۔ایک آنہ فی روپیہ ماہوار آمد پر چندہ کر دیا گیا ہے اور ابھی اور بھی بڑھانے کا خیال ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایسا ہی فرمایا ہے۔اور یہ بھی ٹھیک ہے کہ بعد میں آنے والوں نے چندہ کی شرح بڑھا دی۔مگر دیکھنا یہ ہے کہ ایسا کیوں