خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 90

$1948 90 خطبات محمود یسے مظاہروں سے نوجوانوں کو روکا جائے تو چونکہ پہلے ہم روکا نہیں کرتے تھے اس لیے قدرتی طور پر ہراحمدی کے دل میں یہ بات تازہ رہے گی کہ میں نے اپنے مرکز کو واپس لینا ہے۔مجھے غیر طبعی خوشیوں کی طرف مائل نہیں ہونا چاہیے۔اگر خدانخواستہ ہم بھی غیر طبعی خوشیوں میں محو ہو گئے اور نو جوانوں کو ہم نے یہ محسوس نہ کرایا کہ کتنا بڑا صدمہ ہمیں پہنچا ہے تو ان کے اندر اپنے مقصد کے حصول کے لیے جد و جہد اور کوشش کی سچی تڑپ زندہ نہیں رہ سکے گی۔اس لیے میں سمجھتا ہوں میرے لیے یا کسی اور کے لیے ایسے مظاہروں میں کوئی دلچسپی نہیں ہو سکتی۔آخر ہار پہنانا کوئی مذہبی مسئلہ نہیں۔مذہبی مسائل کی حیثیت بالکل اور ہوتی ہے مثلاً عید کے دن اگر کوئی شخص نئے کپڑے نہیں پہنتا یاد ھلے ہوئے کپڑے نہیں پہنتا تو میں کہوں گا کہ وہ ایک ناجائز فعل کا ارتکاب کرتا ہے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ عید کے دن غسل کرو ، نئے کپڑے پہنو یا اگر نئے کپڑے نہیں تو ڈھلے ہوئے کپڑے پہن لو۔3 یا مثلاً جمعہ کے دن نیا ڈھلا ہوا جوڑا پہنے کا حکم ہے۔گو آج میں نے کپڑے نہیں بدلے کیونکہ میں ابھی سفر سے آیا ہوں مجھے کپڑے بدلنے کا موقع نہیں ملا مگر یہ مجبوری کی بات ہے۔یوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جمعہ کے دن غسل کرو، کپڑے بدلو، خوشبو لگاؤ اور اس طرح جسم اور لباس کی صفائی کر کے مسجد میں جاؤ۔4 پس جس چیز کا شریعت نے ہمیں حکم دیا ہے وہ ہم ضرور کریں گے کیونکہ اس کے چھوڑنے سے خدا تعالیٰ ناراض ہوتا ہے مگر جو خوشی خدا تعالیٰ نے مقرر نہیں کی بلکہ ہم اپنے لیے آپ پیدا کرتے ہیں اُس کے متعلق ہمارا فرض ہے کہ ہم اُس وقت تک اسے نظر انداز کر دیں جب تک خدا تعالیٰ کے سامنے ہم اپنے فرض کو ادا کر کے سرخرو نہ ہو جائیں۔ہمارے سامنے ایک بہت بڑا کام ہے۔ہمارا مقدس مقام دشمن کے قبضہ میں ہے اور باوجود انڈین یونین کے انکار کرنے کے کہ ہم نے ایسا نہیں کیا ہم سمجھتے ہیں کہ انڈین یونین کی اجازت اور اُس کی پشت پناہی سے اُس پر قبضہ کیا گیا ہے۔انڈین یونین چاہے نئی گورنمنٹ ہو وہ تمہیں کروڑ آبادی کی گورنمنٹ ہے اور تمیں کروڑ کی آبادی کوئی معمولی چیز نہیں۔در حقیقت انڈین یونین آبادی کے لحاظ سے دنیا میں دوسرے نمبر کی حکومت ہے۔پہلے درجہ کی حکومت کی آبادی این کے نقطہ نظر سے چین کی حکومت ہے اور دوسرے درجہ کی حکومت انڈین یونین ہے۔بلکہ جس طرح پاکستان کو نکال کر انڈین یونین کی آبادی تمیں کروڑ کی بنتی ہے اسی طرح اگر چین کے کمیونسٹ حلقہ کو نکال دیا جائے