خطبات محمود (جلد 29) — Page 64
$1948 64 خطبات محمود وه تمہارا کوئی عزیز دنیا کماتا ہے تو تمہارے دل میں لالچ کیوں پیدا ہوتی ہے۔کیا کسی کو پاخانہ کھاتے دیکھ کر تمہارے دل میں بھی رغبت پیدا ہوتی ہے؟ اگر تم نے صحیح طریق اختیار کیا ہوا ہوتا تو تم سمجھتے کہ وہ نجاست کھا رہا ہے اور ہمیں اُس نجاست کھانے والے شخص سے گھن آنی چاہیے تھی، نفرت اور کراہت آنی چاہیے تھی۔لیکن اگر تمہیں کراہت نہیں آتی تو تم بھی ویسے ہی مجرم ہو جیسے وہ۔فرق صرف یہ ہے کہ وہ ظاہر کافر ہے اور تم باطنی کا فر ہو اور کوئی فرق نہیں۔اور اگر جس لائن کو تم نے اختیار کیا ہے اُس کے فوائد تم پر روشن ہیں، تم اپنی زندگی وقف کرنے کے بعد اپنے دلوں میں ایک عظیم الشان تغیر محسوس کرتے ہو، تم یقین رکھتے ہو کہ یہ ایک بھاری نعمت ہے جو تمہیں دی گئی ہے، دنیا تمہاری نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے اور خدا ہی خدا تمہیں نظر آنے لگتا ہے، اسی طرح تمہارے کاموں میں وہ اولوالعزمانہ شان پیدا ہو جاتی ہے جو خدا کے بندوں میں پیدا ہونی چاہیے اور تم صرف مفوضہ کام کا بجالا نا ہی کافی نہیں سمجھتے بلکہ تمہیں یہ بھی مدنظر ہوتا ہے کہ جماعت کی ساری ذمہ داریاں تم پر ہیں اور تم اس راہ میں مرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہو۔تب بے شک یہ کہا جاسکتا ہے کہ تم نے وقف کی حقیقت کو سمجھا ہے۔یادرکھو! بغیر موت قبول کرنے کے کوئی مذہبی جماعت مذہبی جماعت نہیں بن سکتی۔تم کو پہلے قربانیاں دینی پڑیں گی اور جماعت کو بعد میں قربانی کے لیے بلایا جائے گا۔تم اگر یہ امید کرتے ہو کہ پہلے دوسرے لوگ قربانیاں کریں تو تم کافر اور مرتد ہو۔پہلے تمہیں اپنی قربانیاں پیش کرنی پڑیں گی۔اور وہ دن اب کچھ زیادہ دور نہیں بلکہ وہ دن دروازے پر کھڑے ہیں جب تم کو اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کرنی پڑیں گی۔یہ عیاش لوگوں کے خیالات ہوتے ہیں کہ اگر ہم آگے بڑھے تو ہمارے بچے یتیم اور ہماری بیویاں بیوہ ہو جائیں گی۔مومن ان چیزوں کو فخر کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قبول کرتا ہے۔اگر خدا کی مرضی یہی ہے تو ہونے دو بیویوں کو بیوہ ہونے دو بچوں کو یتیم۔ہمارا مٹ جانا خدا کی راہ میں اگر اسلام کو مضبوط بناتا ہے تو ہم ضرورمٹیں گے اور ہمارا مٹنا ہمارے لیے فخر کا موجب ہوگا۔ہمارا یہ احساس کہ ہم زندہ رہ کر دین کی خدمت کریں یہ دہریت ہے، یہ کفر ہے، یہ بے ایمانی ہے۔تم کو سب سے پہلے اپنی قربانی پیش کرنی ہوگی۔اور تمہاری اس قربانی کے بعد وہ ہزاروں ہزار اور لاکھوں لاکھ احمدی جو اس وقت نابینا ہیں اور صرف منہ سے اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں اللہ تعالیٰ اُن کی آنکھوں کو بھی بینا کر دے گا اور اُن کے ایمانوں کو بھی مضبوط بنادے گا۔ہم پھولوں کی سیج پر چل کر دلوں کو فتح نہیں کر سکتے۔دلوں کو ،