خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 443

$1948 443 خطبات محمود پس میں سمجھتا ہوں کہ پہلے جو شبہ پیدا ہو گیا تھا یعنی لوگ یہ سمجھتے تھے کہ ہمارے جماعت سے اخراج کے اعلان اور اس سے دوسرے لوگوں کو ملنے جلنے سے منع کر دینے کی وجہ سے وہ اپنے خیالات کو پھیلا نہیں سکے اس شبہ کا ازالہ اس صورت میں ہی ہوسکتا ہے کہ اب ایسے شخص کو کھلا چھوڑ دیا جائے۔اس کا جو جی چاہے کرے اور جس طرح چاہے کوشش کرے۔میٹنگیں کرے اور مجلسیں کرے۔لوگ اُس کی مجلسوں میں جائیں اور اُس کی باتیں سنیں۔اور وہ اپنے خیالات کو لوگوں میں پھیلائے اور پھر دیکھا جائے کہ وہ کامیاب ہوتا ہے یا میں کامیاب ہوتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات پر سب سے زیادہ جو سوال اٹھا تھا وہ مولوی ثناء اللہ صاحب کا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اُس وقت مجھے ایک دلیل سمجھائی اور اُسی کی وجہ سے ہم غالب رہے اور جو دشمن تھے اُن کے دانت کھٹے ہو گئے۔اور وہ دلیل یہ تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقابلہ پر مختلف لوگ آئے اور انہوں نے کہا آپ جھوٹے ہیں اور ہم بچے ہیں اور چونکہ جھوٹے سچے کے مقابلے میں اُس کی زندگی میں مرجاتے ہیں اس لیے آپ ہماری زندگی میں ہی مر جائیں گے۔اور ہم چونکہ بچے ہیں اس لیے لمبی عمر پائیں گے۔اس کے بعد ایسے واقعات پیش آئے کہ وہ مر گئے اور آپ زندہ رہے۔اب کہنے والوں کے دلوں میں یہ شبہ پڑ سکتا تھا کہ یہ اتفاق کی بات ہے کہ آپ زندہ رہے اور آپ کے مخالف مر گئے۔اس پر اللہ تعالیٰ نے ایک مخالف شخص کے منہ سے یہ بات نکلوادی کہ سچا مرا کرتا ہے اور جھوٹا اُس کے مقابلہ میں زندہ رہا کرتا ہے۔تب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہو گئے اور وہ زندہ رہا۔اب اس تقابل نے ظاہر کر دیا کہ یہ خدائی فعل تھا اتفاقی امر نہیں تھا۔اس طرح ایک وقت میں تدبیر اختیار کر کے ہم نے دشمن کے مقابلہ میں فتح حاصل کی لیکن جب دشمن نے یہ اعتراض کیا کہ تدبیر اور جتھا کی وجہ سے تم غالب آئے ہو تو ہم نے دوسرا طریق اختیار کیا کہ اچھا تم تدبیر ختیار کر لو اور پھر اس کا نتیجہ دیکھ لو۔اصل بات یہ ہے کہ وہ شخص جو اس منصو بہ کا بانی ہے اُس کے متعلق چار سال ہوئے جبکہ وہ دہلی میں تھا اللہ تعالیٰ نے مجھے رویا میں بتایا تھا کہ وہ مرتد ہو جائے گا۔میں نے اس رویا کو بعض لوگوں پر ظاہر بھی کر دیا تھا۔چنانچہ اس کا ایک سالا دہلی سے میرے پاس آیا تو میں نے اُس سے پوچھا کہ بتاؤ تمہارے بہنوئی کا کیا حال ہے؟ اس نے جواب دیا وہی حالت ہے جو عام طور پر ہوتی ہے یعنی کسی سے