خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 36

$1948 36 خطبات محمود اور ان پر کم ہے یا اس کے برعکس اُن پر زیادہ ہے اور ان پر کم ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اُن کی نسبت خدا تعالیٰ کا حق ان پر زیادہ ہے۔خدا تعالیٰ قرآن کریم میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہلِ بیت سے فرماتا ہے اگر تم میرے راستہ پر چلتے ہوئے نیکی اور تقوی اختیار کرو گے تو دوسروں کی نسبت تم دُہرے ثواب کے مستحق ہو گے لیکن اگر تم نیکی اور تقوای اختیار نہیں کرو گے تو دوسروں کے لیے بدنمونہ پیش کرو گے تو تم دوسروں کی نسبت دُہرے عذاب کے مستحق ہو گے۔3 میں سمجھتا تھا کہ قادیان سے نکلنے کے بعد اور جماعت پر یہ عظیم الشان ابتلا دیکھنے اور اپنے آپ کو بعض مشکلات اور مصائب میں پانے کے بعد ایسے نوجوانوں کو ہوش آ جائے گا۔لیکن یہ سب کچھ ہونے کے بعد بھی میں دیکھتا ہوں کہ وہ روح جو ایسے نوجوانوں کے اندر پیدا ہو جانی چاہیے تھی ابھی تک پیدا نہیں ہوئی۔اور میں سمجھتا ہوں کہ اس بات کی ذمہ داری جماعت پر بھی ہے کیونکہ جب جماعت کے لوگ ہمارے خاندان کے ان نو جوانوں کو دیکھتے ہیں تو نہایت ادب کے ساتھ ان کو صاحبزادہ صاحب کہتے ہیں۔بس یہی صاحبزادہ صاحب کہنے والے لوگ ہی ایسی باتوں کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔مجھے ایک دوست کا احسان اپنی ساری زندگی میں نہیں بھول سکتا اور میں جب کبھی اُس دوست کی اولا د پر کوئی مشکل پڑی دیکھتا ہوں تو میرے دل میں ٹیس اٹھتی ہے اور میں اُن کی بہبودی کے لیے دعائیں کیا کرتا ہوں۔انہیں کئی ایسے مسائل کا سامنا ہوا جن سے کہ وہ سمجھتے تھے ہم بیچ نہیں سکیں گے لیکن خدا تعالیٰ نے میری دعاؤں کے طفیل اُن پر فضل کرتے ہوئے اُنہیں بچا لیا۔اُن کا مجھے پر احسان یہ ہے کہ 1903ء کی بات ہے جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مولوی کرم دین والے مقدمہ کی پیروی کے لیے گورداسپور میں مقیم تھے۔وہ دوست جن کا میں ذکر کر رہا ہوں مراد آباد یوپی کے رہنے والے تھے اور فوج میں رسالدار میجر تھے۔محمد ایوب اُن کا نام تھا۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ملنے کے لیے گورداسپور آئے تھے۔انہوں نے دو باتیں ایسی کیں جو میرے لیے ہدایت کا موجب ہوئیں۔دتی میں رواج تھا اور شاید اب بھی ہو کہ بچے باپ کو تم کہہ کر خطاب کرتے ہیں۔اسی طرح بیوی خاوند کو تم کہتی ہے۔لکھنؤ وغیرہ میں آپ کے لفظ سے مخاطب کرتے ہیں۔ہمارے گھر میں چونکہ دتی کی اردو بولی جاتی تھی اور گھر میں ہمیشہ ثم تم کا لفظ ان سنتے رہنے سے میری عادت بھی تم کہنے کی ہو گئی تھی۔یوں تو میری عادت تھی کہ میں حتی الوسع