خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 438

خطبات محمود 438 $1948 پس جماعت کے دوستوں کو رسمی دعاؤں کے لیے کہنا چھوڑ دینا چاہیے۔جب کوئی شخص کسی کی سے کہتا ہے کہ وہ اس کے لیے دعا کرے تو اُس کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود بھی دعا کرے۔اگر وہ مجھے کو دعا کے لیے کہتا ہے یا اور کسی کو دعا کے لیے کہتا ہے اور آپ دعا کے لیے کافی وقت نہیں نکالتا تو ہے اللہ تعالیٰ دوسرے کے دل میں بھی دعا کے لیے تحریک نہیں کرتا۔یہ روحانی چیز ہے۔بعض لوگ مجھے دس دس رقعے لکھ دیتے ہیں۔رقعے سنبھال کر تو نہیں رکھے جاتے۔میری عادت ہے کہ رقعہ پڑھتے وقت دعا کرتا جاتا ہوں۔لیکن میرا تجربہ ہے کہ بعض دفعہ کسی کی طرف سے ایک ہی خط آتا ہے تو اس کے لیے دعا اس زور سے نکلتی ہے کہ وہ قبولیت کا موجب ہو جاتی ہے حالانکہ مجھے اس کا علم بھی نہیں ہوتا اور نہ وہ میرا جانا بوجھا ہوتا ہے۔وہ رقعہ مختصر اور سادہ ہوتا ہے مگر اُسے پڑھ کر ایک بجلی سی پیدا ہو جاتی ہے اور اتنے زور کے ساتھ دعا نکلتی ہے کہ میں سمجھ لیتا ہوں کہ اُس کا کام ہو گیا۔لیکن بعض کے بیس بیس رقعے آتے ہیں۔بے شک اُن کے لیے بھی دعا نکلتی ہے اور ان کے لیے بھی میں دعا کرتا ہوں لیکن اُس کے پیچھے وہ بجلی نہیں ہوتی کیونکہ اس کے لکھنے والا دعا کا قائل نہیں ہوتا یونہی رسمی طور پر دعا کے لیے لکھ دیتا ہے۔اس کے ماں باپ احمدی ہوتے ہیں یا دوست احمدی ہوتے ہیں وہ دعا کے قائل ہوتے ہیں وہ اُسے کہتے ہیں تم ان سے بھی دعا کے لیے کہنا تو وہ لکھ دیتا ہے لیکن بوجہ اخلاص اور جوش کے نہ ہونے کے دعا کرنے والے کے اندر بھی ویسی تحریک پیدا نہیں ہوتی۔اگر دعا کرانے والے کے اندر بھی اخلاص اور جوش پایا جاتا ہو، وہ دعا کی اہمیت کو سمجھتا ہو اور پھر وہ کسی کے پاس جاتا ہے اور اُسے دعا کے لیے کہتا ہے تو قدرتی طور پر اس کے اندر دعا کی تحریک پیدا ہوتی ہے۔لیکن اگر اس کے اندر خود جوش اور اخلاص نہیں تو اسے دعا کی قبولیت پر یقین نہیں۔وہ اپنی جدو جہد اور کوشش پر تو کل کر لیتا ہے تو اس کا نتیجہ کچھ بھی نہیں نکالتا۔کیونکہ دعا جوش اخلاص اور یقین کے بغیر قبول نہیں ہوا کرتی۔غرض اپنے کاموں کے علاوہ ہمیں یہ دعا بھی کرنی چاہیے کہ اے خدا ! جس حد تک ہماری طاقت تھی ہم نے کوشش کی اب تو ہی اس کام کو پورا کر دے کیونکہ یہ کام اب ہماری طاقت سے باہر ہے۔تم پہلے فرائض کو ادا کرنے کی طرف توجہ کرو۔اگر تم دعا کرتے رہو تو مجھے کسی خطبہ کی ضرورت ہی نہیں۔اگر تمہارے اندر کمزوریاں اور خامیاں ہیں اور تم دعا کرتے ہو کہ خدایا! تو ان کمزوریوں اور خامیوں کو دور کر دے تو تمہاری دعا ہی اُن کو دور کر دے گی۔اگر تم نمازوں میں کمزور ہو اور تم دعا مان