خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 377

$1948 377 خطبات محمود اس میں گھبراہٹ کی کوئی بات نہیں۔یہ خیال کر لینا کہ کسی کے نکل جانے سے جماعت کم ہو جائے گی کی اور جماعت کے کم ہو جانے سے چندے کم ہو جائیں گے غلط ہے۔کوئی جماعت چندے کے ساتھ کام نہیں کیا کرتی۔وہ قربانی اور ایثار کے ساتھ کام کیا کرتی ہے۔ہزاروں ہزار ایسے لوگ ہوتے ہیں جود بے ہوئے ہوتے ہیں اور فتنے انہیں ظاہر کر دیتے ہیں۔جس کا ایک خطبہ میں یہ ذکر آیا تھا کہ کوئٹہ میں میرے پاس ایک دوست آئے انہوں نے مجھے بتایا کہ میں نے سلسلہ کی ایک کتاب اپنے پاس رکھی ہوئی ہے۔( وہ میری کتاب دعوۃ الا میر تھی) اور میں نے اس لیے رکھی ہے کہ میری بیوی شیعہ ہے۔وہ ایرانن ہے۔میں اُسے سنایا کرتا ہوں۔تو دیکھو کتاب بھی اُن کے پاس تھی۔وہ پڑھتے بھی تھے مگر اس لیے نہیں کہ وہ غیر احمدی سے احمدی بن جائیں بلکہ اس لیے کہ اُس کی بیوی شیعہ سے سنی ہو جائے۔اس سے زیادہ انہوں نے تکلیف گوارا نہیں کی۔وہ اُس کتاب کی خوبی کے قائل تھے ورنہ وہ کتاب اپنی بیوی کو نہ سناتے کوئی اور کتاب سناتے لیکن باوجود اس کتاب کی خوبی کے قائل ہونے کے انہوں نے اس بات کی ضرورت نہ سمجھی کہ وہ احمدی ہو جائیں اور یہ خیال نہ کیا کہ انہیں احمدیت پر غور کرنا چاہیے۔جس دن ، رات کے وقت میجر محمود احمد صاحب شہید ہوئے صبح کو نو بجے کے قریب وہ میرے پاس آئے۔مجھے اطلاع دی گئی کہ کوئی صاحب آپ سے ملنے کے لیے آئے ہیں۔ان کے ساتھ ایک احمدی دوست بھی تھے۔میں نے جب ان سے پوچھا کہ آپ کس لیے آئے ہیں؟ تو وہ کہنے لگے کہ میں نے بیعت کرنی ہے۔میں نے پوچھا کہ آپ نے نتائج پر غور کرلیا یا نہیں ؟ اس پر وہ کہنے لگے میں کل کے جلسہ میں نہیں تھا اور نہ ہی اس کے متعلق مجھے کچھ علم تھا۔جب صبح میں دکان پر گیا اور دکان کھولنے لگا تو میں نے کنجی لگائی۔ابھی میں کنجی پھیر نے لگا تھا کہ کسی نے مجھے آواز دی مرزا صاحب ( وہ دوست مغل تھے ) ہم نے رات کو ایک مرزائی مار ڈالا ہے۔میرے ہاتھ میں کنجی تھی، ابھی تالا کھولا نہیں تھا۔یہ بات سنتے ہی میرے دل پر ایک خاص اثر ہوا۔میں نے کنجی باہر نکالی اور وہاں سے چل پڑا اور خیال کیا کہ وہ نمبر میں پورا کر آؤں جو میجر محمود احمد صاحب کی شہادت سے کم ہوا ہے۔میں تسلیم کرتا ہوں کہ انہیں سلسلہ کی کتب کا مطالعہ تھا اور ان پر احمدیت کا اثر تھا مگر ان کے دل میں کبھی احمدی ہونے کا خیال پیدا نہیں ہوا تھا۔جب فتنہ پیدا ہوا اور جان دینے کا سوال آیا تو فوراًوہ احمدیت میں شامل ہو گئے۔سو تعداد کم ہو جانا خطرہ کی بات نہیں۔جب جماعت میں ہر قسم کے آدمی آنے شروع ہو جاتے ہیں