خطبات محمود (جلد 29) — Page 371
$1948 371 خطبات محمود تمہارے ہی جیسے ہیں ہم تمہاری بات کیوں مانیں۔ایسے لوگ ہر جماعت میں ہوتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسلمانوں میں سے بھی کچھ لوگ ایسے تھے جو نماز کی پابندی سے گھبراتے تھے اور تلقین سے بُرا مناتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میرا دل چاہتا ہے کہ میں صبح کی نماز میں یا عشاء کی نماز میں اپنی جگہ کسی اور کو کھڑا کر دوں اور کچھ لوگوں کے سروں پر لکڑیاں رکھ کر ان لوگوں کے گھروں میں جاؤں جو نماز باجماعت میں حاضر نہیں ہوتے اور دروازوں کے سامنے لکڑیوں کو رکھ کر مکانوں کو مکینوں سمیت جلا دوں۔1 اس میں جہاں نماز کے لیے تاکید ہے وہاں اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی مسلمانوں میں سے کچھ ایسے لوگ تھے جو نماز پڑھنے سے گریز کرتے تھے۔قرآن کریم میں بھی اس کا ذکر آتا ہے۔للہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ سَاهُونَ 2 ہیں۔يُرَآءُونَ 3 دکھاوے کی نمازیں پڑھتے ہیں اور جب کوئی انہیں نہیں دیکھتا تو وہ نماز چھوڑ دیتے ہیں۔پس جب کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ایسے لوگ پائے جاتے تھے۔حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ میں بھی ایسے لوگ پائے جاتے تھے تو ضروری تھا کہ اس جماعت میں بھی ایسے لوگ پائے جاتے۔میں نے پچھلے خطبہ جمعہ میں نصیحت کی تھی کہ جماعت لاہور کونماز میں با قاعدگی کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔میں نے کوئی بُری بات نہیں کہی تھی اور نہ یہ بات شریعت کے خلاف پڑتی تھی کہ یہ کہا جاتا کہ تم تو کہتے ہو نمازیں پڑھنی چاہیں مگر اسلام کہتا ہے کہ نمازیں نہیں پڑھنی چاہییں۔یا کہا جاتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو نماز میں چھوڑنے کو بابرکت قرار دیتے تھے آپ خواہ مخواہ اس میں دخل دیتے ہیں۔لیکن کسی شخص نے جو بد قسمتی سے اپنے آپ کو لاہور کا رہنے والا قرار دیتا ہے مجھے خط لکھا ہے اور یہ تیسرا خط ہے جو مجھے لاہور میں کسی گمنام شخص کی طرف سے آیا ہے۔ایک خط پہلے آیا تھا جس کا ذکر نے کسی مجلس میں کر دیا تھایا کسی خطبہ میں کر دیا تھا۔اور ایک کسی عورت کی طرف سے آیا تھا اور ایک اب کسی شخص کی طرف سے موصول ہوا ہے۔اُس شخص نے اس خط میں لکھا ہے کہ آپ ہمیں تو کہتے ہیں نمازیں پڑھو مگر آپ کی بیویاں سڑکوں پر بے پردہ پھرتی ہیں۔یہ تو وہی بات ہوگئی جیسے کسی نے کہا تھا کہ جاٹ رے جاٹ تیرے سر پر کھاٹ“۔یہ کسی شخص نے دوسرے سے مذاقیہ طور پر کہا تھا اور یونہی قافیہ ملا دیا تھا۔اس میں کوئی اعتراض کی بات نہیں تھی۔اُس نے کہا ”جاٹ رے جاٹ تیرے سر پر کھاٹ“۔