خطبات محمود (جلد 29) — Page 304
$1948 304 خطبات محمود ہزار تدبیریں کرواو پر کی ترقیات تم کو نہیں مل سکتیں کیونکہ پہلی ترقیات تک پہنچنے والوں کو ہی تم نے خدا بنا لیا ہے۔جب تک ان ترقیات کو تم اپنی نظروں سے گرا نہیں لو گے، جب تک تم اس یقین پر قائم نہیں ہو گے کہ تمہاری کامیابی کے راستے صرف خدا نے کھولنے ہیں کسی انسان نے نہیں۔اور جب تک تم ان بڑے لوگوں کو خدائی کے درجہ سے نیچے نہیں گراؤ گے اُس وقت تک تم کبھی اوپر نہیں جا سکو گے کیونکہ تم نے خود اپنے لیے ترقی کا ایک آخری معیار مقرر کر لیا ہے۔دنیا میں ہر شخص اپنے لیے ایک درجہ مقر رکیا کرتا ہے اور جتنا درجہ وہ اپنے لیے مقرر کر لیتا ہے اُس درجہ پر پہنچ کر اللہ تعالیٰ اُسے چھوڑ دیتا ہے۔اسی لیے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ مومنوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْراتِ 3 تم نیکیوں میں بڑھو اور نیکیوں کے درجوں کو اور بھی بلند کرتے چلے جاؤ۔دنیا کے شہنشاہ بھی اگر احمدیت میں داخل ہوتے ہیں تو تم یہ سمجھو کہ ان بادشاہوں کو اتنی ہی عزت حاصل ہے جتنی وہ دین میں ترقی کرتے ہیں۔اگر وہ ادنیٰ درجہ کی ترقی کرتے ہیں تو وہ ادنیٰ درجہ کے آدمی ہیں، اگر و درمیانی درجہ تک پہنچتے ہیں تو وہ درمیانی درجہ کے آدمی ہیں اور اگر وہ اعلیٰ درجہ کی قربانیاں کرتے ہیں تو وہ اعلیٰ درجہ کے مومن ہیں۔جب تک تم اس نقطہ نگاہ سے دنیا کے بڑے آدمیوں کو دیکھتے رہو گے دنیا کی تھی کوئی ترقی تمہارا آخری مقصد اور منتہی نہیں ہوگی اور تمہارے لیے اللہ تعالیٰ ہر قسم کی بڑائی اور ترقی اور عزت کے دروازے کھولتا چلا جائے گا۔لیکن اگر کسی موقع پر تم دنیا داری کی وجہ سے لوگوں کو فضیلت دو گے یا تمہاری نظریں اُن کی طرف اٹھنی شروع ہو جائیں گی اور تم یہ سمجھو گے کہ ان کے ذریعہ سے ہی ہمیں اپنا قدم اونچا اٹھانے کی توفیق ملی ہے تب وہی خدا تعالیٰ کی نظروں میں تمہارا آخری مقصد ہوگا اور تم اس سے اوپر ترقی نہیں کر سکو گے۔روه پس اپنی غلطیوں کی وجہ سے سلسلہ کی ترقی میں روک مت بنو۔سلسلہ کی ترقی ان افراد کی وجہ سے نہیں جن کو تم بڑا سمجھتے ہو۔الہی سلسلہ کو ترقیات اور خدائی تائیدات کسی فرد کی وجہ سے نہیں بلکہ قوم کی وجہ سے حاصل ہوا کرتی ہیں۔اور تمہارے لیے جو ترقی کے راستے اللہ تعالیٰ نے کھول رکھے ہیں اُن پر چلنے اور ان اعلیٰ مقامات کو حاصل کرنے کا مادہ اس نے خود تمہارے اندر پیدا کیا ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک الہام ہے کہ " حق اولاد در اولاد " 4 یعنی اے مسیح موعود ! ہم نے تمہاری اولاد کا حق خود اولاد کے اندر رکھ دیا ہے۔اگر وہ اس سے فائدہ اٹھائیں گے