خطبات محمود (جلد 29) — Page 274
$1948 274 خطبات محمود گڑھے کھودا کرتے تھے اور آپ کی یہ پیشگوئی تھی کہ جن گڑھوں میں یہ لوگ آپ کو گرانا چاہتے ہیں ان میں یہ خود گرائے جائیں گے۔اس لیے بدر کی جنگ کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ ان کفار کی لاشوں کو کنویں میں گرادیا جائے۔آپ کے اس حکم کے مطابق صحابہ نے کفار کی لاشوں کو گھسیٹ گھسیٹ کر ایک اندھے کنویں میں پھینک دیا۔3 غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوجہل دونوں کی پیدائش اور وفات کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پیدائش کے وقت جو بظاہر ذلیل نظر آتا تھا وفات کے وقت سید عرب بنا۔لیکن جو سید عرب نظر آتا تھا وہ وفات کے وقت نہایت ہی ذلیل وجود ثابت ہوا۔غرض بعض دفعہ ایک چیز کی ابتدا اور ہوتی ہے اور انتہا اور ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب پیدا ہوئے تو آپ کے ماں باپ نے آپ کی پیدائش پر خوشی کی ہوگی مگر جب آپ کی عمر بڑی ہو گئی اور آپ کے اندر دنیا سے بے رغبتی پیدا ہوگئی تو آپ کے ماں باپ آپ کی اس حالت کو دیکھ کر آہیں بھرا کرتے تھے کہ ہمارا یہ بیٹا کسی کام کے قابل نہیں۔مجھے ایک سکھ نے بتایا کہ ہم دو بھائی تھے۔ہمارے والد صاحب مرزا صاحب ( مرزا غلام مرتضی صاحب) کے پاس آیا کرتے تھے۔ہم بھی بسا اوقات ان کے ساتھ آیا کرتے تھے۔ایک دفعہ مرزا صاحب نے ہمارے والد سے کہہ دیا کہ تمہارے لڑکے غلام احمد ( علیہ الصلوۃ والسلام) کے پاس آتے جاتے ہیں تم اُن سے کہو کہ اسے جا کر سمجھائیں۔ہم دونوں جب آپ کے پاس جانے کے لیے تیار ہو گئے تو مرزا صاحب نے کہا کہ غلام احمد (علیہ الصلوۃ والسلام) کو جا کر کہنا کہ تمہارے والد کو اس خیال سے بہت دکھ ہوتا ہے کہ اس کا چھوٹا لڑکا اپنے بڑے بھائی کی روٹیوں پر پلے گا۔اسے کہو کہ وہ میری زندگی میں ہی کوئی کام کرے۔میں کوشش کر رہا ہوں کہ اسے کوئی اچھی نوکری مل جائے۔میں مرگیا تو پھر سارے ذرائع بند ہو جائیں گے۔مجھے اُس سکھ نے بتایا کہ ہم مرزا غلام احمد صاحب ( علیہ الصلوۃ والسلام) کے پاس گئے اور کہا کہ آپ کے والد صاحب آپ کا بہت خیال رکھتے ہیں۔انہیں یہ دیکھ کر کہ آپ کچھ کام نہیں کرتے بہت دکھ ہوتا ہے۔وہ فرماتے ہیں کہ اگر میں مر گیا تو غلام احمد علیہ الصلوۃ والسلام ) کا کیا بنے گا؟ آپ اپنے والد صاحب کی بات کیوں نہیں مان لیتے ؟ آپ کے والد صاحب اُس وقت کپورتھلہ میں کوشش کر رہے تھے۔کپورتھلہ کی ریاست نے آپ کو ریاست کا افر تعلیم مقرر کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور سکھ کہنے لگا کہ جب ہم نے یہ بات کہی کہ آپ اپنے والد کی بات