خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 255

$1948 255 خطبات محمود جائے گا۔حضرت موسی علیہ السلام اپنی قوم کو ساتھ لے کر چل پڑے۔جب وہ ملک سامنے آگیا تو آپ نے اپنی قوم سے کہا جاؤ اور لڑائی کر کے اس ملک پر قبضہ کر لو۔حضرت موسی علیہ السلام کی قوم نے غلطی سے یہ خیال کر لیا کہ خدا تعالیٰ نے یہ ملک ہمیں دینے کا وعدہ کیا ہے اس لیے وہ خود ہی اس وعدہ کو پورا کرے گا اور یہ ملک ہمارے قبضہ میں دے دے گا۔ہم نے اگر اس ملک کو فتح کیا تو پھر وعدے کا کیا فائدہ؟ وعدہ تو خدا نے کیا ہے وہ اسے خود پورا کرے گا۔ہمیں اس کے لیے کسی قسم کی کوشش کرنے کی ضرورت نہیں۔چنانچہ انہوں نے حضرت موسی علیہ السلام سے کہہ دیا فَاذْهَبُ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا قُعِدُونَ 2 کہ اے موسیٰ ! تو ہم سے کہا کرتا تھا کہ یہ ملک خدا تعالیٰ تمہیں دے دے گا۔اب تمام ذمہ داری تجھ پر ہے یا تیرے خدا پر ہے۔ہم نے اگر ملک فتح کیا تو پھر تیرے اور تیرے خدا کے وعدوں کا کیا فائدہ؟ چونکہ تو ہمیں بتایا کرتا تھا کہ خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ یہ ملک ہمیں ضرور ملے گا۔اس لیے اب تو جا اور تیرا رب دونوں لڑو۔ہم تو یہیں بیٹھیں گے۔جب تم ملک فتح کر کے ہمیں دے دو گے تو ہم اس میں داخل ہو جائیں گے۔بظاہر ان کا یہ کہنا درست معلوم ہوتا ہے۔اگر کوئی کسی سے کہے کہ میں تمہیں فلاں چیز دوں گا اور وہ اس سے آکر وہ چیز مانگے اور وہ اسے کہہ دے کہ جاؤ بازار سے خرید لوتو سارے لوگ یہی کہیں گے کہ اگر اُس نے وہ چیز بازار سے ہی خرید نی تھی تو پھر اُس کے وعدہ کی کیا ضرورت تھی۔پس بظاہر یہ بات معقول معلوم ہوتی ہے لیکن الہی سلسلوں میں یہ اول درجہ کی غیر معقول بات ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے اُن بنی اسرائیل کی تعریف نہیں کی۔یہ نہیں کہا کہ تمہیں لڑنے کی ضرورت نہیں۔یہ ہمارے ذمہ ہے کہ ہم یہ ملک تمہیں لے کر دیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم نے ہماری ہتک کی ہے اس لیے تمہیں اس ملک سے محروم کیا جاتا ہے۔جاؤ چالیس سال تک جنگلوں میں بھٹکتے پھرو۔تم اس ملک کے وارث نہیں بن سکتے۔تمہاری نئی نسل اس ملک کی وارث ہوگی کیونکہ تم نے ہماری ہتک کی ہے۔تو دیکھو یہ چیز انسانی لحاظ سے تو درست اور معقول کہلا سکتی ہے لیکن الہی سلسلہ کے لحاظ سے نہایت ہی غیر معقول ہے اور انسان کو عذاب کا مستحق بنا دیتی ہے۔اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کی یہی وجہ ہے کہ جب کوئی انسان وعدہ کرتا ہے تو اسے تغیرات سماوی اور تغیرات ارضی پر اختیار نہیں ہوتا۔اس لیے جب بھی وہ وعدہ کرتا ہے تو ایسی چیز کا کرتا ہے جو اس کے اختیار میں ہوتی ہے۔لیکن خدا تعالیٰ کی طرف سے جو وعدہ ہو گا اُس کا یہ مطلب ہوگا کہ اگر چہ اس چیز کا حصول تمہار۔