خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 246

$1948 246 خطبات محمود کہتا۔مگر اُس کا جوش پھر بھی ٹھنڈا نہ ہوا اور وہ گالیاں دیتا ہوا واپس چلا گیا۔حضرت حمزہ کا گھر قریب ہی ہے تھا۔آپ کی ایک لونڈی یہ نظارہ دیکھ رہی تھی۔گھر کی لونڈیاں اگر چہ کو نڈیاں ہی ہوتی ہیں مگر زیادہ دیر گھر میں رہنے کی وجہ سے اپنے آپ کو رشتہ دار ہی سمجھنے لگ جاتی ہیں۔جب آپ کی کونڈی نے وہ نظارہ دیکھا تو اُس کے اندر درد پیدا ہوا۔مگر عورت تھی وہ کر ہی کیا سکتی تھی ؟ شام کو جب آپ شکار سے واپس آئے تو وہ چیل کی طرح جھپٹ کر آپ کی طرف آئی اور کہنے لگی تم سپاہی بنے پھرتے ہو۔صبح میں نے دیکھا ہے کہ تمہارا بھتیجا صفا پہاڑی پر بیٹھا ہوا تھا کہ ابو جہل آیا اور اُس نے بے نقط گالیاں دینی شروع کر دیں۔پھر عورتوں کی طرح اُس نے قسم کھا کر کہا خدا کی قسم ! اُس نے اُسے کچھ بھی نہیں کہا تھا۔ابو جہل گالیاں دیتا گیا، دیتا گیا مگر وہ خاموش رہا۔اس پر اُسے اور غصہ آیا اور اُس نے اُسے ایک تھپڑ مار دیا۔مگر اس پر بھی اُس نے صرف یہی کہا کہ میرا کیا قصور ہے جس کی وجہ سے تم مجھے مارتے ہو؟ میں تو آپ لوگوں کو خدا تعالیٰ کی باتیں ہی سناتا ہوں۔حضرت حمزہ بہادر آدمی تو تھے ہی صرف عقل کو دین کی روشنی نہیں ملی تھی۔اُن کی غیرت نے جوش مارا اور وہ اُسی وقت باہر چلے گئے اور خانہ کعبہ میں آئے۔ابو جہل وہاں بیٹھا ہوا تھا اور دوسرے رؤسائے مکہ بھی اُس کے اردگرد بیٹھے تھے اور اسلام کے خلاف باتیں ہو رہی تھیں۔آپ بھی ایک رئیس آدمی تھے۔جب اُنہوں نے آپ کو آتے دیکھا تو آپ کے لیے جگہ خالی کر دی۔مگر انہوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی اور آگے گزر کر ابو جہل کے منہ پر کمان ماری اور کہا تم میرے بھتیجےمحمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اس لیے گالیاں دیتے اور مارتے ہو کہ وہ تمہاری باتوں کا جواب نہیں دیتا ؟ اب سُن لے کہ میں بھی اُس کے دین پر ہوں۔اگر تم میں طاقت ہے تو مجھ سے لڑلو۔سارے رؤسائے مکہ کھڑے ہو گئے تا کہ وہ اس ہتک کا بدلہ لیں۔لیکن ابو جہل نے سمجھ لیا کہ اگر انہوں نے حمزہ کو مارا تو یہ مسلمان تو ہے نہیں مکہ میں لڑائی شروع ہو جائے گی اور بنو ہاشم اور اُن کے حلیف ایک طرف ہو جائیں گے۔چنانچہ ابو جہل نے اُن سے کہا جانے دو۔آج صبح مجھ سے ہی غلطی ہوگئی تھی۔پھر حضرت حمزہ وہاں سے اُٹھے اور سیدھے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور اسلام قبول کر لیا۔5 حضرت عمرؓ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کی نیت سے اپنے گھر سے نکلے تھے۔آپ نے انعام مقرر کیا ہوا تھا کہ جو شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سرکاٹ کر لائے گا میں اُسے اتنے اونٹ انعام دوں گا۔مگر کسی نے آپ کو نہ مارا۔آخر حضرت عمر کو کسی نے طعنہ دیا کہ تم اتنے