خطبات محمود (جلد 29) — Page 244
خطبات محمود 244 $1948 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دعوی نبوت فرمایا اور مکہ میں مخالفت کی آگ بھڑک ہی اتھی تو ایک دفعہ عتبہ بن ربیعہ قریش کی طرف سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس نے کہا کہ میں تم سے صرف یہ دریافت کرنے آیا ہوں کہ آخر تم نے جو اپنی قوم میں اتنا بڑا فتنہ برپا کر رکھا ہے تو اس سے تمہاری غرض کیا ہے؟ اگر تم مال چاہتے ہو تو ہم سب مل کر تمہارے لیے اتنا مال جمع کر دیتے ہیں کہ تم ہم سب سے زیادہ مالدار ہو جاؤ۔اگر حکومت کی خواہش ہے تو ہم تمہیں اپنا بادشاہ بنانے کے لیے تیار ہیں۔اگر شادی کی خواہش ہے تو ہم سب سے زیادہ حسین اور اعلی گھرانے کی لڑکی تمہیں دینے کے لیے تیار ہیں۔غرض جو بھی تمہاری خواہش ہے کھل کر بتادو ہم اُسے پورا کرنے کے ذمہ دار ہوں گے۔جب وہ اپنی تقریرختم کر چکا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب میرا جواب بھی سن لو۔اور یہ کہہ کر آپ نے سورۃ حم سجدہ کی ابتدائی آیات تلاوت فرمائیں جن میں خدا تعالیٰ کی توحید کا ذکر آتا ہے۔جب آپ اس آیت پر پہنچے کہ فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صَعِقَةً مِثْلَ صُحِقَةِ عَادِ وَ ثَمُودَ 3 یعنی اگر یہ لوگ اعراض کریں تو تو انہیں کہہ دے کہ میں تمہیں اُسی قسم کے عذاب سے ڈراتا ہوں جس قسم کا عذاب عاد اور ثمود پر آیا۔تو عقبہ کا رنگ فق ہو گیا اور اُس نے بے اختیارا پنا ہاتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ پر رکھ دیا اور کہا دیکھو! محمد ایسا نہ کہو۔آخر یہ آپ ہی کی قوم ہے۔4 دیکھو مکہ والے آپ پر ظلم کرتے تھے مگر وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ وہ دعا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلے گی وہ عرش کو ہلا دے گی اور ہمیں تباہ کر دے گی۔پس یہ غلط ہے کہ دشمن ظلم کو نہیں سمجھتا۔ظلم کبھی لمبا نہیں چلا کرتا بلکہ ایک حد تک ہی چلتا ہے اور پھر بند ہو جاتا ہے۔اسی طرح آجکل لوگ بیشک ہماری مخالفت کریں مگر آخر انہی میں سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو صداقت کو قبول کریں گے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ قادیان میں مولوی ثناء اللہ صاحب نے تقریر کی۔لوگوں میں ہمارے خلاف بڑا جوش تھا۔اُنہوں نے اپنی تقریر میں میرے متعلق کہا کہ اگر یہ بچے ہیں تو میرے ساتھ مقابلہ کریں۔ہم اکٹھے کلکتہ تک کا سفر کرتے ہیں۔پھر ہم دیکھیں گے کہ کس پر پتھر پڑتے ہیں اور کس پر پھول برستے ہیں؟ میں نے شام کو اپنے جلسہ میں جواب دیا کہ مولوی صاحب نے تو خود ہی صداقت کا فیصلہ کر دیا ہے۔وہ سوچیں کہ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر پڑا کرتے تھے یا پھول برسا کرتے تھے؟ اور ابو جہل پر پتھر پڑا کرتے تھے یا پھول برسا کرتے تھے؟ پس جو پتھر مارتا ہے یا پتھر مارنے پر