خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 234

خطبات محمود 234 $1948 بلکہ دوسرا شخص صرف اس بات پر خوش ہوتا ہے کہ اس کی ایک بات کی تصدیق ہوگئی ہے۔ہر انسان میں خواہ وہ کتنا ہی بُرا کیوں نہ ہو کچھ اچھی باتیں بھی پائی جاتی ہیں۔بلکہ ایک دہر یہ جو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتا۔اس میں بھی بعض اچھی باتیں پائی جاتی ہیں۔وہ محنت کرتا ہے، خدمتِ خلق کرتا ہے مصیبت زدوں کی امداد کرتا ہے، بیواؤں کی خبر گیری کرتا ہے اور یتیموں کی نگہداشت کرتا ہے مگر ہوتا د ہر یہ ہی ہے۔اس کا اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں ہوتا۔غرض دنیا میں کوئی بھی ایسا آدمی نہیں پایا جاتا جس میں کوئی نیکی بھی نہ ہو بلکہ کوئی دہر یہ بھی ایسا نہیں ہوتا جس میں کوئی نیکی نہ پائی جاتی ہو۔دنیا کے بد سے بدتر انسان میں بھی کوئی نہ کوئی نیکی ضرور پائی جائے گی کشتی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شدید ترین دشمنوں میں بھی بعض اچھی باتیں پائی جاتی تھیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب طائف میں تبلیغ کے لیے تشریف لے گئے تو طائف والوں نے آپ کو طرح طرح کی ایذا ئیں دیں، دکھ دیئے ، پتھراؤ کیا اور آپ کے پیچھے گئے چھوڑ دیئے۔جب آپ واپس تشریف لائے تو مکہ والوں کے دستور کے مطابق آپ دوبارہ شہر میں داخل ہونے کے مجاز نہیں تھے کیونکہ آپ ایک دفعہ مکہ چھوڑ کر چلے گئے تھے اور مکہ والوں کے اصول کے مطابق آپ وہاں کے شہری نہیں رہے تھے۔اب آپ کے سامنے یہ سوال تھا کہ آپ مکہ میں دوبارہ کس طرح داخل ہوں۔آپ نے شہر کے ایک رئیس کے پاس جو آپ کا شدید ترین دشمن تھا پیغام بھجوایا کہ میں شہر میں داخل ہونا چاہتا ہوں کیا تم میرے لیے اعلان کرو گے کہ مجھے شہر میں داخل ہونے کی اجازت ہے۔؟ اُس وقت مکہ میں کوئی خاص قانون رائج نہیں تھا، کوئی پارلیمنٹ وغیرہ نہیں تھی۔کوئی رئیس اگر اعلان کر دیتا کہ فلاں شخص کو میری طرف سے شہر میں داخل ہونے کی اجازت ہے تو عرب کے دوسرے سردارا سے مان لیتے تھے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام اس رئیس کو ملا تو اس نے اپنے پانچوں بیٹوں کو بلا کر کہا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) اگر چہ ہمارے دشمن ہیں مگر وہ ہماری امان میں مکہ میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔اگر ہم کہیں کہ ہم امان نہیں دیتے تو اس میں ہماری ہتک ہوگی۔لیکن اگر ہم ان کو امان دے دیں تو شہر میں ان کی بہت مخالفت ہے اور اس مخالفت کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ تم پر بھی کوئی حملہ کر دے۔اس لیے تم سب ہتھیار پہن لو اور آپ کے آگے آگے چلوتا کہ کوئی نا آپ کو ایذا نہ پہنچا سکے۔2 دیکھو یہ کیسی اعلیٰ درجہ کی خوبی تھی جو آپ کے شدید ترین دشمن میں پائی