خطبات محمود (جلد 29) — Page 217
$1948 217 خطبات محمود لیکن میرے پہلے مخاطب آپ ہیں۔میں جماعت کے سیکرٹری صاحب مال کو جن کے کام سے مجھے بہت خوشی حاصل ہوئی ہے توجہ دلاتا ہوں کہ وہ حساب کریں کہ جماعت کے کتنے وعدے تھے اور کیا وہ ٹھیک تھے غلط تو نہیں تھے۔اگر غلط تھے تو وہ انہیں ٹھیک کروائیں اور اگر ٹھیک تھے تو وہ دیکھیں کہ کیا ان کی ادائیگی ہوچکی ہے؟ اور اگر ادائیگی نہیں ہوئی تو وہ ادائیگی کروائیں اور دوسری جماعتوں کے لیے نمونہ بنیں تا ان کا نمونہ دیکھ کر دوسری جماعتیں بھی نیکی کی طرف بڑھیں۔دوسری بات جس کی طرف میں جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ یہاں تبلیغ کم ہو رہی ہے اور احباب پوری طرح اس کی طرف توجہ نہیں دے رہے۔اب بھی میں سمجھتا ہوں کہ حقیقی طور پر یہاں تبلیغ نہیں ہو رہی۔اس وقت مجھے یہ کہا بھی گیا تھا کہ تبلیغ ہورہی ہے اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ بعض دوست بیعت کے لیے تیار بھی ہیں مگر ابھی تک اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ جس طرح عام لوگوں میں یہ غلطی پائی جاتی ہے کہ جب کوئی کسی سے سرسری بات کر لیتا ہے تو یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ تبلیغ ہوگئی۔کسی کے سامنے جماعت کی سرگرمیوں کا سرسری طور پر ذکر کر دیا اور اس نے ہاں میں ہاں ملادی یا کہہ دیا کہ تمہاری جماعت بہت اچھا کام کر رہی ہے تو پھر سمجھ لیا جاتا ہے کہ بس وہ احمدی ہو جائے گا۔یہاں بھی یہ غلطی پائی جاتی ہے۔اپنے مطلب کی بات میں تو ہر ایک ہاں میں ہاں ملا دیتا ہے۔اس بات سے یہ نتیجہ اخذ کر لینا کہ وہ احمدیت کی طرف مائل ہے یا جلد ہی احمدی ہو جائے گا غلط ہے۔کسی کے گھر میں کوئی پھلوں کی ٹوکری بھیج دے اور وہ جَزَاكَ الله کہہ دے اس سے یہ مطلب نکال لینا کہ وہ احمدیت کی طرف مائل ہے نہایت ہی عقل کے خلاف ہے۔یہ خیال کر لینا کہ لوگ سرسری ذکر سے تسلی پا جاتے ہیں درست نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے میں نے یہ سنا تھا کہ ایک لڑکا تھا۔ماں نے اسے نوکری کے لیے ایک امیر آدمی کے پاس بھیج دیا۔وہ خود بیوہ تھی اور اس کے اور بھی بچے تھے۔اس نے اپنے بیٹے سے کہا کہ بیٹا جو تنخواہ تمہیں ملا کرے گی وہ سب مجھے بھیج دیا کرنا۔بیٹے نے کہا کہ اگر مجھے اس خطبہ کے بعد عزیزم میاں کرم الہی صاحب نے رقعہ لکھا کہ وہ پہلا وعدہ پورا کر چکے ہیں اور پھر نئے سرے سے اسی رقم کا وعدہ حفاظت مرکز کے لیے کرتے ہیں۔جزَاهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ الْجَزَاءِ اور اللہ تعالیٰ دوسروں کے لیے ان کا نمونہ نیک تحریک کرنے کا موجب بنائے۔