خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 205

$1948 205 خطبات محمود خزانہ میں روپیہ بڑھ گیا۔لیکن بعد میں گورنمنٹ کو پتہ چلا کہ وہ ایک ہزار روپیہ کھا گیا ہے اُس نے غلط حساب پیش کیا ہے۔پچاس ہزار روپے اُس نے اکٹھے کیے تھے جن میں سے ایک ہزار روپیہ وہ کھا گیا۔اُس نے دیانت اور امانت کی قیمت کو نہ جانا۔انچاس ہزار روپیہ جمع کرائے اور ایک ہزار روپیہ خود کھا گیا۔اب دیکھو یہ ایک ہزار روپیہ اُس کی تمام کوششوں کو باطل کر دے گا۔گورنمنٹ اُسے ضرور سزا دے گی اور اُس کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کرے گی۔یہ صیح ہے کہ اُس نے کوشش کر کے اور محنت کر کے انچاس ہزار روپیہ جمع کر کے گورنمنٹ کے خزانہ میں داخل کرا دیا مگر ایک ہزار جو اس نے کھا لیا وہ باقی انچاس ہزار پر بھی پانی پھیر دے گا۔اب اگر وہ یہ کہے کہ یہ روپیہ گورنمنٹ کو نہیں مل سکتا تھا میں نے کوشش کی اور انچاس ہزار روپیدا کٹھا کر کے لے آیا۔اب اس میں سے دو، چار، دس، ہیں جتنا تم سمجھتے ہو کہ آسکتا ہے کاٹ لو اور باقی کو میری پیدا کردہ آمد سمجھ لو تو کیا کوئی بیوقوف سے بیوقوف مجسٹریٹ بھی اُسے صحیح مانے گا؟ اور کیا کوئی احمق سے احمق افسر بھی اسے درست مانے گا؟ پس اگر ایک دنیاوی گورنمنٹ اس جھوٹ کو معاف نہیں کر سکتی تو پھر اللہ تعالیٰ جھوٹ کو کیسے معاف کر سکتا ہے۔یہ تو ٹھیک ہے کہ اُس نے غلط آمد لکھوائی اور اُس نے پچاس فیصدی چندہ دینے کا وعدہ کیا جس سے لوگوں میں تحریک پیدا ہوگئی اور وہ بھی پچاس فیصدی چندہ دینے لگ گئے مگر خدا کو اس سے کیا فائدہ پہنچا۔اس نے جھوٹ بولا اور گناہ کا ارتکاب کیا۔گورنمنٹ کو تو فائدہ پہنچ سکتا ہے کیونکہ اُسے فائدہ کی ضرورت ہے۔اگر اُسے پچاس ہزار روپیہ نہ آتا تو اُسے نقصان ہوتا مگر خدا تعالیٰ کو فائدہ کی کیا ضرورت ہے؟ اگر تم چندہ نہ دو تو اُسے کیا نقصان پہنچ سکتا ہے۔وہ تو ثواب کے لیے ہم سے نیک کام کرواتا ہے اور جب ثواب کا سوال آئے گا تو اُسے کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ تمہارے ساتھ کوئی رعایت کرے۔اللہ تعالیٰ انسان کو اس طرح غیب سے دیتا ہے کہ اس کا اندازہ لگانا ہی ناممکن ہے اور نہ ہی اُس کا کوئی حساب کر سکتا ہے۔میں نے کئی دفعہ سوچا ہے کہ میری آمدن بہت کم ہے اور خرچ بہت زیادہ ہے لیکن پھر بھی خرچ چلتا چلا جاتا ہے۔حساب سے اس کا ٹھیک پتہ نہیں چلتا۔بعض دفعہ میں دو دو تین گھنٹہ تک حساب کرتا رہتا ہوں مگر پھر پریشان ہو کر اسے چھوڑ دیتا ہوں۔بہر حال میرا خرچ چلتا جاتا ہے۔اگر چہ آمد بہت ہی کم ہے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میرے پاس کچھ گندم تھی۔میں اس میں سے کھاتی رہی اور کبھی اس کا حساب نہ کیا۔کچھ عرصہ کے بعد مجھے خیال آیا کہ یہ دیکھنا چاہیے کہ اب کتنی