خطبات محمود (جلد 29) — Page 172
$1948 172 خطبات محمود افراد کے دلوں میں ایمان موجود ہے۔گو وہ کمزور ہی سہی ایسا ہی سہی۔جیسے بجلی کے بڑے بڑے قمقموں کی کے مقابلہ میں مٹی کے تیل کا ایک چھوٹا سا دیا ہوتا ہے، لیکن ہے ضرور۔میں نے سمجھا کہ متواتر تحریک کے نتیجہ میں جماعت کا ایک حصہ ضرور اس پر عمل کرے گا۔گو میں یہ سمجھتا تھا کہ جماعت ایمان کے اس مقام پر نہیں پہنچی کہ اُس کا سو فیصدی یا ایک معتد بہ حصہ اس میں حصہ لے۔چنانچہ متواتر تحریک کے نتیجہ میں بہت سے لوگ جنہوں نے پہلے اس تحریک میں حصہ نہیں لیا تھا اب انہوں نے بھی حصہ لینا شروع کر دیا ہے اور شاید اب سینکڑوں تک ایسے لوگوں کی تعداد پہنچ گئی ہو جنہوں نے 25 سے 50 فیصدی تک چندہ دینے کا وعدہ کیا ہے۔لیکن جماعت کی تعداد لاکھوں کی ہے ہزاروں کی بھی نہیں۔اس لیے ی سینکڑوں کا لفظ ہمارے لیے کسی قسم کی خوشی کا موجب نہیں ہوسکتا۔بہر حال یہ تحریک بڑھ رہی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر اسے جاری رکھا جائے تو یہ سینکڑوں سے نکل کر ہزاروں تک پہنچ جائے گی۔لیکن جیسا کہ میں نے شروع میں بتایا ہے میری رائے ہے کہ بعض افراد کا زیادہ سے زیادہ قربانی کرنا اتنا خوش کن نہیں ہو سکتا جتنا زیادہ سے زیادہ افراد کا تھوڑی قربانی کرنا۔گو تجربہ نے بتا دیا ہے کہ جماعت متواتر تحریکات کے نتیجہ میں اپنے اخلاص میں ترقی کرتی ہے اور کرتی چلی جائے گی۔پہلے اگر روکیں پیدا بھی ہوں تو آہستہ آہستہ وہ روکیں دُور ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔اس تحریک کے شروع میں بھی روکیں پیدا ہوئیں لیکن وہ روکیں آہستہ آہستہ دور ہورہی ہیں اور لوگوں میں بیداری پیدا ہورہی ہے۔لیکن اس رفتار کو دیکھ کر میں ڈرتا ہوں کہ اس کے نتیجہ میں زیادہ تر جماعت ثواب سے محروم رہ جائے گی۔اس لیے غور کرنے پر میں نے اس سکیم میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں جن کا میں آج اعلان کر دینا چاہتا ہوں۔وہ تبدیلی یہ ہے کہ بجائے 25 فیصدی کے ساڑھے سولہ فیصدی اور بجائے 50 فیصدی کے 33 فیصدی رکھی جائے۔اس میں وہ تمام چندے شامل ہوں گے جو اس وقت تک سلسلہ کی طرف سے عائد ہیں۔مثلاً تحریک جدید کا چندہ، جلسہ سالانہ کا چندہ ، نئے مرکز کا چندہ ، انجمن کا چندہ۔لیکن شرط یہ ہوگی کہ اس تحریک سے ستمبر والی تحریک کے پہلے جو چندہ کوئی شخص دیتا تھا اس سے یہ چندہ کم نہ ہو۔مثلاً اگر 1946 ء یا 1947ء میں کسی نے کوئی وعدہ کیا تھا اور اُس وعدہ کے مطابق سوائے حفاظت مرکز کے چندہ کے، تحریک جدید اور دوسرے چندوں کو ملا کر اُس کا چندہ ساڑھے سولہ فیصدی سے زیادہ ہو جائے تو اُسے زیادہ دینا پڑے گا۔اور اگر کم ہو تو اتنا چندہ ہی کافی سمجھا جائے گا۔حفاظت مرکز کے