خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 143

$1948 143 خطبات محمود تھے۔اسی طرح روسی بھی دس بارہ لاکھ مارے گئے۔انگریز بھی تین ساڑھے تین لاکھ مارے گئے، امریکن بھی لاکھ ڈیڑھ لاکھ مارے گئے۔ان سب کو ملا لیا جائے تو انداز 27،261لاکھ آدمی پانچ سال میں مارا گیا ہے۔یہ 26 ، 27 لاکھ آدمی دنیا کے تمام گوشوں اور کناروں پر مارا گیا ہے۔ایک کے مرنے کی جگہ دوسرے مرنے والے کی جگہ سے بعض دفعہ پندرہ پندرہ ، ہمیں ہمیں میل دور تھی اور ایک مرنے کی والے اور دوسرے مرنے والے کے درمیان بعض دفعہ پانچ پانچ سال کا فاصلہ تھا۔مگر یہاں جو بارہ تیرہ لاکھ آدمی مارا گیا ہے ایسے محدود علاقہ میں مارا گیا ہے اور اتنی چھوٹی سی جگہ میں مارا گیا ہے کہ جس میں ایک ہی زبان بولی جاتی تھی۔ایک ہی قسم کی عادات لوگوں میں پائی جاتی تھیں۔ایک ہی حکومت رائج تھی اور رسم و رواج بھی ایک ہی قسم کے تھے۔یہ سارے کے سارے ایک مہینہ یا ڈیڑھ مہینہ کے اندر اندر مارے گئے اور اس طرح مارے گئے کہ ایک کی موت پر ابھی لوگوں کے آنسو نہیں تھمے تھے کہ دوسرا مر گیا۔ایک خاندان کی چیچنیں ابھی بند نہیں ہوئی تھیں کہ دوسرے خاندان میں سے چیخوں کی آوازیں اُٹھنے لگیں اور یہ سب کچھ اِس سُرعت سے ہوا اور اتنے تھوڑے سے علاقہ میں ہوا کہ جرمنی کی تباہی بھی اس کے مقابلہ میں بالکل بیچ نظر آتی ہے۔یوں ہم سمجھتے ہیں کہ دنیا میں ہزاروں آدمی ہر روز مرتے ہیں۔دوارب کی دنیا اگر ہم سمجھ لیں اور یہ فرض کر لیں کہ 1/4 فی ہزار مرتا ہے تو اس کے لحاظ سے بچیں آدمی فی لاکھ اور اڑھائی ہزار آدمی فی کروڑ مرتا ہے۔دنیا کی آبادی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ آجکل دو ارب کے قریب ہے۔اڑھائی ہزار فی کروڑ کے لحاظ سے اڑھائی لاکھ آدمی روزانہ مرتا ہے مگر پتہ بھی نہیں لگتا کہ اتنے آدمی مر گئے ہیں۔اس کے مقابلہ میں اگر ایک کشی ڈوب جاتی ہے یا موٹر اُلٹ جاتی ہے اور پانچ سات آدمی مر جاتے ہیں تو ایک آفت آ جاتی ہے اور سب لوگ باتیں کرنے لگتے ہیں کہ فلاں جگہ موٹر گری دس آدمی مر گئے اور پندرہ زخمی ہوئے۔پاکشتی غرق ہوئی اور اتنے آدمی ڈوب گئے۔غرض تین چار دن مسلسل ایک گہرام مچا رہتا ہے۔اس لیے کہ وہ موت قریب واقع ہوتی ہے لیکن جو اڑھائی لاکھ آدمی روزانہ مرتا ہے یہ فاصلہ فاصلہ پر مرتا ہے۔اتنے فاصلہ پر کہ ایک کی خبر دوسرے کو نہیں پہنچتی یا اگر پہنچتی بھی ہے تو بعد مقام اور بعد احساس اور بعدِ حکومت کی وجہ سے تکلیف نہیں پہنچتی۔مگر یہاں قرب مقام اور قرب قومیت اور مطابقت رسم و رواج اور ایک حادثہ سے ہلاک ہونے کی وجہ سے مرنے والوں کا صدمہ بہت سخت ہوا ہے۔ورنہ اڑھائی لاکھ آدمی دنیا میں روزانہ مرتا ہے اور پتہ بھی نہیں لگتا۔