خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 120

$1948 120 خطبات محمود جلد بازی سے وہ کام کو خراب نہیں کر دیتا۔جب کسی شخص میں یہ تین خوبیاں جمع ہو جائیں وہ اللہ تعالیٰ کا کامل مومن بندہ بن جاتا ہے۔ایسا بندہ جو دنیا کا سہارا ہوتا ہے اور جو دنیا کو تباہی سے بچانے کا ذریعہ اور اُن کے دکھوں کا علاج اور مداوا ہوتا ہے۔بچپن میں یہ تینوں باتیں جمع نہیں ہوتیں کیونکہ وہ معذوری کا زمانہ ہوتا ہے۔لیکن جب سے معذوری کا زمانہ جاتا رہتا ہے اور احکام شرعیہ پر عمل کرنے کا وہ مکلف ہوتا ہے اُس وقت سے ان تینوں باتوں کا اُس میں جمع ہونا ضروری ہوتا ہے۔صرف بچپن کا زمانہ ایسا ہے جس کو ہم مستغنی کر سکتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی فرماتے ہیں اَلصَّبِيُّ صَبِيٌّ وَ لَوْ كَانَ نَبِيًّا 3 بچہ بچہ ہی ہے خواہ وہ بعد میں نبی ہی کیوں نہ بن جائے۔ہماری جماعت کو بھی یہ تینوں باتیں اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ہر عمر میں علم سیکھنے کی تڑپ اُس کے اندر ہونی چاہیے۔جب تک علم سیکھنے کی تڑپ نہ ہو اُس وقت تک انسان کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔مگر علم سیکھنے کے معنے کج بحثی کے نہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ نو جوانوں میں یہ نقص پایا جاتا ہے کہ وہ جواب پر غور نہیں کرتے اور کج بحثی شروع کر دیتے ہیں۔یا ایسی گفتگو کرتے ہیں جو اُن کی پراگندہ ماغی کا ثبوت ہوتی ہے۔مثلاً ذکر ہو گا موت کا تو وہ سوال کر دیں گے بچہ کس طرح پیدا ہوتا ہے؟ یا ذکر ہوگا بچہ پیدا ہونے کا تو وہ بات سن کر کہہ دیں گے جنت میں حور میں کیسی ہوں گی ؟ پتہ ہی نہیں لگتا کہ وہ کس جہت کی طرف جارہے ہیں۔جیسے چڑیا پھرکتی ہے یا جیسے بندر ایک شاخ سے پھدک کر دوسری شاخ پر چلا جاتا ہے یہی حال اُن کے دماغ کا ہوتا ہے حالانکہ ہر چیز میں انسان کو سمو یا جانا چاہیے۔جب وہ کسی چیز کی طرف مائل ہو تو وہ اُس کے سیاق و سباق کو دیکھے، اُس کے بواعث کو دیکھے ، اس کے نتائج کو دیکھے اور پھر کوئی گفتگو کرے۔غرض خیالات پر قبضہ اور تصرف نہایت ضروری ہے۔اس کے بغیر کوئی علم حاصل نہیں ہوسکتا۔جو شخص صرف پھر کنا جانتا ہے وہ اپنے اندر علم جذب نہیں کر سکتا۔علم جذب کرنے والا ایک چیز سے دوسری چیز کی طرف انتقال کرنے میں کچھ وقت چاہتا ہے۔مگر اس کے یہ معنے بھی نہیں کہ تم ایسے بن جاؤ جیسے افیونی ہوتا ہے اور جسے دوسری جہت کی طرف لے جانے کے لیے بہت بڑی جدو جہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ایسا انسان بھی کسی کام کے قابل نہیں ہوتا جسے ایک جہت سے دوسری جہت کی طرف جانے کے لیے مدتیں درکار ہوں۔مگر یہ ضرور ہے کہ خیالات کی روکو اس طرح توڑ دینا کہ بات کوئی شروع ہے اور سوال کوئی کیا جارہا ہے بتاتا ہے کہ دماغ میں سنجیدگی نہیں۔