خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 86

$1948 86 خطبات محمود کی ضرورت محسوس ہوتی تو آپ کا ارشاد تھا کہ مقتدی بھی ساتھ ہی بیٹھ جایا کریں لیکن آخر میں آپ نے اس حکم کو منسوخ فرما دیا اور ارشاد فرمایا کہ امام اگر بیمار ہو اور وہ بیٹھ کر نماز پڑھانا چاہے تو وہ تو بیٹھ جائے لیکن مقتدی کھڑے ہو کر نماز پڑھا کریں۔1 اس کے بعد میں ایک امر کی تشریح کر دینا مناسب سمجھتا ہوں۔جماعت کے دوستوں نے ہماری رہائش کے لیے یہاں ایک جگہ تجویز کی تھی جس کا نام مندر ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ وہ مندر نہیں تھا بلکہ مذہبی امور کے لیے وہ عمارت بنائی گئی تھی لیکن بہر حال میں نے اُس مکان میں رہنے سے انکار کر دیا ہے۔جس طرح وہ لوگ جو یہاں کے کارکن ہیں اس سے ایک حد تک غلط فہمی میں مبتلا ہو سکتے ہیں اور اسی غلط فہمی میں وہ مجھ سے مل کر معذرت کرتے رہے ہیں کہ ہمیں معاف کر دیا جائے ہم سے غلطی ہوگئی ہے۔اسی طرح ممکن ہے بعض اور لوگوں کو بھی اس کے متعلق غلط فہمی ہو اس لیے میں یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ مسئلہ ایسا نہیں تھا جس کے متعلق پہلے سے حقیقت واضح ہوتی اور جس کی بناء پر اُن کے اس فعل کو کوئی غلطی یا خطا کہا جا سکے اس لیے اس فعل کے متعلق معافی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اصل بات یہ ہے کہ قادیان کے چھوڑنے پر ہم نے انڈین یونین کے ساتھ یہ گفتگو شروع کی ہوئی ہے کہ قادیان ہمارا مقدس مذہبی مقام ہے اُس میں کسی اور کو رہنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔انڈین یونین کی طرف سے یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ قادیان کے مکانات کس نقطہ نگاہ سے مقدس ہیں؟ کیا یہ مساجد ہیں؟ یا ان جگہوں پر مذہبی امور طے ہوتے رہے ہیں جن کی بناء پر ان کو مذہبی مقام کہا جاتا ہے۔اس کے جواب میں گورنمنٹ پاکستان کے نمائندوں کے ذریعہ ہم نے یہ بات پیش کی کہ مقدس مقام ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ عبادت گاہ ہی ہو بلکہ اگر کوئی مقام ایسا ہو جس سے دوسرے کے مذہبی احساسات وابستہ ہوں تو پھر بھی کسی دوسرے کا قبضہ کر لینا یقیناً تکلیف کا موجب ہوتا ہے۔اس لیے قادیان کا ہر مکان اور قادیان کی ہر دکان جو کسی احمدی نے بنائی وہ ہمارے لیے مقدس ہے اور صرف احمدیوں کے پاس ہی رہنی چاہیے۔یہ کہنا کہ وہ دکان ہے کافی نہیں۔کیونکہ گووه دکان ہے مگروہ دکان ایک احمدی نے اس لیے بنائی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا تعالیٰ سے خبر پا کر پیشگوئی فرمائی تھی کہ قادیان بڑھے گا اور احمدی ہجرت کر کے یہاں آ بسیں گے۔2