خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 83

$1948 83 خطبات محمود کیا تو نے یہ کھیر کھانی تھی؟ اُس نے جواب دیا کہ میں نے تو نہیں کھانی تھی لیکن اب میں گھر گیا تو اماں ہے مجھے مارے گی۔کیونکہ یہ وہ برتن تھا جس میں اماں بچے کو پاخانہ پھرایا کرتی تھی۔یہی تمہارے ایمان کا حال ہوتا ہے اور تم بھی ایسی ہی چیز خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کرتے ہو۔ملاں کے قصہ کو سن کر تم سب لوگ ہنس پڑتے ہو مگر تم کبھی یہ غور نہیں کرتے کہ تم بھی خدا تعالیٰ کے سامنے کتنے کی جوٹھی چیز پیش کرتے ہو اور پھر کہتے ہو کہ ہم مومن ہیں، پھر کہتے ہو کہ ہماری نجات ہو جائے اور ہمیں جنت مل جائے۔تمہیں اس قربانی اور ایمان کے بدلہ میں ایک ایکڑ زمین بھی تو نہیں مل سکتی۔مگر تم امید یہ رکھتے ہو کہ تمہیں جنت ملے جس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے۔عَرْضُهَا السَّمُوتُ وَالْأَرْضُ 4 ك آسمان اور زمین کے برابر اُس کی لمبائی اور چوڑائی ہوگی۔یہ جنت ہے جس کا مومنوں کو وعدہ دیا گیا ہے۔اور یہ وہ جنت ہے جس کے مقابلہ میں ساری دنیا کی بادشاہت بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔امریکہ بھی اور یورپ بھی اور ہندوستان بھی اور چین بھی اور جاپان بھی اور دوسرے ممالک بھی اس کا کروڑواں بلکہ ار بواں حصہ بھی نہیں۔مگر تم کام وہ کرتے ہو جن کے بدلہ میں کوئی شخص ایک گز زمین بھی تمہیں دینے کے لیے تیار نہیں ہو سکتا۔بلکہ گز بھر زمین کا بھی سوال نہیں اگر تم کسی کے سامنے ایسی چیز پیش کرو تو وہ تمہارے منہ پر تھپڑ مارے گا کہ تم میرے سامنے کیا چیز پیش کر رہے ہو۔تم جاؤ کسی چودھری کے پاس اور اُسے میلے کے ڈھیر پر سے اُٹھایا ہوا ایک جو تا تحفہ پیش کرو اور پھر دیکھو کہ وہ تم سے کیا معاملہ کرتا ہے۔وہ جو تا تمہارے سر پر مارے گا اور تمہیں ذلیل کر کے اپنے گھر سے باہر نکال دے گا۔مگر تم ایسا ہی پھٹا ہوا اور ذلیل جو تا خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کرتے ہو اور پھر کہتے ہو کہ ہمیں جنت مل جائے۔ایک ذلیل سے ذلیل انسان کو بھی تم یہ چیز نہیں دے سکتے مگر وہ خدا جو ساری دنیا کا مالک ہے، جو ساری دنیا کا خالق اور رازق ہے تم اُس کے سامنے ایسی ہی چیز پیش کرتے ہو اور پھر اس کا نام ایمان رکھتے ہو۔حالانکہ یہ ایمان نہیں یہ کفر سے بھی بدتر چیز ہے۔کافر اپنے کفر کو خدا تعالیٰ کے سامنے پیش نہیں کرتا بلکہ شیطان کے سامنے پیش کرتا ہے اور اُس کے سامنے ہی اُسے پیش کرنا چاہیے۔مگر تم اُس خدا کے سامنے یہ چیز پیش کرتے ہو جس کے سامنے نہایت طیب اور اعلی درجہ کی چیزیں پیش کرنی چاہیں۔پس اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو اور مرنے سے پہلے اپنے آپ کو پاک اور بے عیب بناؤ۔بے ایمانی، بددیانتی ، جھوٹ، دھوکا اور فریب یہی ہر جگہ نظر آتا ہے۔اسی طرح سستی اور غفلت