خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 73

خطبات محمود الله 73 $1948 جس کی وجہ سوائے اس کے اور کیا ہوتی ہے کہ وہ کام نہیں کرتا اور پھر یہ امید رکھتا ہے کہ جب میرا اور دوسری قوموں کا مقابلہ ہو تو میں کامیاب ہو جاؤں۔مگر یہ کس طرح ہوسکتا ہے؟ جو خدا تعالیٰ نے قانون مقرر کیے ہیں اُن کی پابندی کرنے والے لوگ ہی کامیاب ہوں گے خلاف ورزی کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔اس امر کو جانے دو کہ مسلمان ایک نبی کے مخالف ہیں اور چونکہ خدا ان سے ناراض ہے اس لیے اُن پر تبا ہی آرہی ہے۔میں احمدیوں سے کہتا ہوں کہ آخر تم کو کیا ہو گیا ہے اور تم نے احمدیت قبول کرنے کے بعد اپنے اندر کونسی تبدیلی پیدا کی ہے؟ کون سا تغیر ہے جو تم میں پیدا ہوا ہے؟ چند عقائد بے شک تم نے مان لیے ہیں مگر عقائد سے کیا بنتا ہے۔جب تک تم اپنی زندگیوں میں تغیر پیدا نہیں کرتے ، جب تک تم قربانی اور ایثار اور خدا تعالیٰ پر توکل کا مادہ اپنے اندر پیدا نہیں کرتے اُس وقت تک اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ تم نے احمدیت کو قبول کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر لی ہے تو تم سے زیادہ غلطی خوردہ اور کوئی نہیں ہو سکتا۔مومن کی حالت تو یہ ہوتی ہے کہ دشمن اُسے مارتا چلا جاتا ہے مگر وہ پھر بھی یہی کہتا ہے کہ میں نے نہیں مرنا کیونکہ میرا خدا میرے ساتھ ہے۔آخر یہ یقین اُسے غالب کر دیتا ہے۔اور دشمن بھی حیران ہو کر کہتا ہے کہ نہ معلوم یہ ہے کیا بلاء کہ مارنے کے باوجود نہیں مرتا اور پہلے سے بھی زیادہ اُبھرتا چلا جاتا ہے۔تم لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ اتنی بڑی مصیبت اور بلاء کے بعد تمہاری زندگیوں میں کونسا تغیر پیدا ہوا ہے؟ تم اپنے اندر محنت کی عادت پیدا کرو، کام کو وقت پر اور صحیح طور پر سرانجام دو، ایک ایک منٹ بجائے گپوں میں ضائع کرنے کے مفید کاموں میں صرف کرو اور رات کو تم اُس وقت تک سود نہیں جب تک تم اس امر کا جائزہ نہ لے لو کہ تم نے دن بھر میں کیا کیا ہے، تمہیں کیا کیا کام کرنا چاہیے تھا اور تم نے کیا کچھ کیا۔کام سے ہی انسان ترقی کیا کرتا ہے۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ کام سے دوسروں کا فائدہ ہوتا ہے حالانکہ دوسروں کا ہی نہیں انسان کا اپنا بھی فائدہ ہوتا ہے۔یہاں ناصر آباد آنے میں گو میری ذاتی غرض بھی ہوتی ہے کیونکہ میری یہاں زمینیں ہیں مگر میں دیکھتا ہوں یہاں بھی سستی سے کام ہو رہا ہے۔اور چونکہ مسلمانوں کو سُست رہنے کی عادت ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اُن سے نماز بھی وقت پر نہیں پڑھی جاتی۔وہ ٹھیک طرح اپنے بیوی بچوں کی خبر گیری بھی نہیں کرتے۔وہ اپنے کپڑوں کی صفائی کا بھی