خطبات محمود (جلد 29) — Page 63
$1948 63 خطبات محمود تھے بارش آتی تو آپ کمرہ سے نکل کر باہر صحن میں آجاتے۔اپنی زبان باہر نکال دیتے اور جب اُس پر پانی کا قطرہ گرتا تو آپ فرماتے میرے رب کا تازہ احسان ہے۔8 جس شخص کے دل میں خدا تعالیٰ کے احسانات کی یہ عظمت ہو، جس شخص کے دل میں خدا تعالیٰ کے احسانات کی یہ قدر ہو اُس کی زندگی ہی اصل زندگی ہے۔اگر اُس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعمتیں ملتی ہیں اور وہ ان نعمتوں کو کھاتا ہے تو اُن نعمتوں کے کھانے پر اگر کوئی شخص اعتراض کرتا ہے تو وہ کافر ہے بغیر اس کے کہ وہ خدا کا انکار کرے۔کیونکہ وہ خدا کی صفت کا انکار کرتا ہے۔اور اگر وہ فاقے کرتا ہے اور کوئی دوسرا شخص اُس کے فاقے پر یہ اعتراض کرتا ہے کہ کیا یہ بھی خدا کا بندہ ہے جو فاقے کر رہا ہے؟ تو وہ بھی کافر ہے۔اس لیے کہ اُس کی زندگی اپنی زندگی نہیں۔نہ اُس کا کھانا اپنا ہے نہ اُس کا پینا اپنا ہے نہ اسکا جینا اپنا ہے۔وہ کھاتا ہے تو خدا کے لیے کھاتا ہے، وہ پیتا ہے تو خدا کے لیے پیتا ہے، وہ فاقے کرتا ہے تو خدا کے لیے فاقے کرتا ہے۔یہ وہ زندگی ہے جو ایک مومن کی زندگی ہوتی ہے۔جب تک اس احساس کے ساتھ کوئی شخص خدا کے لیے اپنی زندگی وقف نہیں کرتا اُس وقت تک وہ ہرگز مومن نہیں کہلا سکتا۔میں اُن کو بھی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان میں سے زندگیاں وقف کر چکے ہیں اور کام کر رہے ہیں اور خصوصاً وہ میرے بیٹے ہی ہیں کہتا ہوں کہ تم بھی میرے پچھلے خطبوں پر یہ مت خیال کرو کہ تم کو بری سمجھا گیا ہے۔تمہارا اپنے آپ کو وقف کرنا یا کام کرنا یہ ثابت نہیں کرتا کہ تم خدا کے بندے ہو۔ہو سکتا ہے کہ تم خدا کے بندے نہ ہو بلکہ میرے بندے ہو۔ہوسکتا ہے کہ تم نے خدا کو خوش کرنے کے لیے نہیں بلکہ مجھے خوش کرنے کے لیے اپنی زندگی وقف کی ہوئی ہو۔اس لیے تم بھی اپنے حالات کا جائزہ لو۔اگر اپنی زندگی وقف کرنے کے بعد پھر بھی تمہارے اندر دنیا کی لالچ پائی جاتی ہے، اگر پھر بھی تمہارے اندر یہ احساس پایا جاتا ہے کہ تمہارا باپ یا تمہاری ماں کس حد تک تمہاری خدمت کرتے ہیں، اگر پھر بھی تمہارے قلوب میں بشاشت پیدا نہیں ہوئی بلکہ وقف کے بعد تمہارے اندر مایوسی پیدا ہو جاتی ہے یا اُمنگ پیدا نہیں ہوتی تو تمہیں سمجھ لینا چاہیے کہ تم نے جبر کے ماتحت اپنے آپ کو وقف کیا ہوا ہے۔جس طرح زبر دستی کا کلمہ پڑھانا کسی کو جنت کا مستحق نہیں بنا دیتا اسی طرح زبردستی کا وقف بھی کسی کو خدا رسیدہ نہیں بنا سکتا۔اگر تم نے خدا کے لیے اپنی زندگیاں وقف کی ہوئی ہیں تو تم پر مایوسی کیوں طاری ہو۔کسی تکلیف کے پہنچنے پر تمہارے اندر احساس کمتری کیوں پایا جائے۔اگر