خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 44

$1948 44 خطبات محمود میں یہ چاہے کہ خدا اور رسول کا نام بے شک بدنام ہو جائے یا نا کامی کا داغ ( نَعُوذُ بِالله ) اُن کے چہرے پر لگ جائے۔یاد رکھو یہ زمانہ ہماری جماعت کے لیے نہایت ہی نازک ہے۔نہ صرف ہماری جماعت کے لیے بلکہ سارے اسلام کے لیے نازک ہے۔دوسرے مسلمان اس حقیقت کو سمجھیں یا نہ سمجھیں ہماری جماعت اس بات کی مدعی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے تازہ پیغام کی حامل ہے۔اگر دوسرے لوگ اپنے فرائض کی ادائیگی میں غفلت کرتے ہوں تو اس کا یہ نتیجہ نہیں نکلنا چاہیے کہ ہم بھی غافل ہو جائیں۔اگر مسلمان اس حالت پر غور کریں جو اس وقت اسلام کی ہے۔اگر وہ جھوٹے دعووں کو چھوڑ دیں ، اگر وہ اس امر کو اپنے دلوں میں سے نکال دیں کہ ہم اللہ اکبر کے نعرے لگائیں گے تو یوں ہو جائے گا اور وہ اس دھوکا سے اس طرح بچ سکتے ہیں کہ وہ غور اور فکر سے کام لیں۔اگر وہ اسلام کی موجودہ حالت پر صحیح طور پر تدبر کریں تو انہیں نظر آئے گا کہ اسلام کے پاؤں اس وقت اُکھڑ رہے ہیں ، اسلام کی جڑیں اس وقت پل رہی ہیں، اسلام کی سیاسی حالت پہلے ہی کمزور ہو چکی تھی اب عقائد کی حالت بھی کمزور ہوتی چلی جا رہی ہے اور اس وقت اسلام کے نام کو دنیوی اغراض کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔جس طرح کی آج سے پہلے دنیا کا ہر وہ کام جس کے لیے قرآن آیا تھا لوگوں نے نظر انداز کر دیا تھا اور قرآن کریم کے صرف دو کام رہ گئے تھے۔مردوں پر پڑھنا اور عدالتوں میں قرآن ہاتھ میں لے کر جھوٹی قسمیں کھانا۔اسی طرح اس زمانہ میں اسلام کی غرض صرف اس قدر رہ گئی ہے کہ اسلام کا نام لے کر عوام الناس میں جوش پیدا کیا جائے اور سیاسی اغراض میں اس کی مدد سے اپنے رقیب کو شکست دینے کی کوشش کی جائے۔وہ عدالتوں میں جھوٹی قسمیں کھانا اور قبروں پر قرآن کا پڑھنا بھی ایک لغو کام تھا مگر یہ تو بہت ہی خطرناک اور اسلام کو سخت نقصان پہنچانے والا فعل ہے۔نام اسلام کا لیا جاتا ہے مگر غرض ایک دوسرے پر سیاسی فوقیت حاصل کرنا ہوتی ہے۔اسلام اسلام کا نعرہ لگانے والا خود اسلام پر عامل نہیں ہوتا۔وہ نماز کا تارک ہوتا ہے ، وہ اُن تمام آداب اور طریقوں کے خلاف چل رہا ہوتا ہے جن کا اسلام نے بنی نوع انسان سے مطالبہ کیا ہے مگر وہ اسلام کا نعرہ لگانے میں سب سے زیادہ حصہ لیتا ہے۔اُس کی آواز باقی سب آوازوں سے اونچی ہوتی ہے۔وہ جتنازیادہ اسلام کا منکر ہوتا ہے اتنی ہی بلند آواز سے وہ اسلام اسلام کا نعرہ لگاتا ہے تا اُس کے اسلام سے انکار اور اسلام پر عمل نہ کرنے کے عیب پر پردہ پڑ سکے۔