خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 40

$1948 40 LO 5 خطبات محمود اپنے آپ کو اسلام کی خدمت کے لیے تیار کرو (فرمودہ 30 جنوری 1948 بمقام رتن باغ لاہور ) تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: 1909ء کی بات ہے کہ میں کشمیر گیا۔سرینگر جو کشمیر کا دارالحکومت ہے اُس میں ایک جھیل ہے جو ڈل کہلاتی ہے۔کوئی ایک میل کے قریب لمبی اور نصف میل کے قریب چوڑی ہے۔چونکہ سری نگر کی سبزیاں اور ترکاریاں اُس میں بوئی جاتی ہیں اُس کے کناروں پر یا اُس میں گیلیاں ڈال کر اُن پر مٹی ڈال لیتے اور اس طرح مصنوعی زمین بنا لیتے ہیں۔اس لیے اُن سبزیوں کو آسانی کے ساتھ شہر میں لے جانے کے لیے جہلم دریا میں سے جو سری نگر کے پاس بلکہ درمیان میں بہہ رہا ہے ایک نہر نکالی گئی ہے جو ڈل کے ساتھ ساتھ گزرتی ہے۔اور ڈل میں ایک دروازہ بنا دیا گیا ہے جس سے دونوں کے پانیوں کا آپس میں اتصال ہو جاتا ہے۔کبھی نہر میں پانی زیادہ ہو تو ڈل کا پانی نیچا ہو جاتا ہے اور نہر کی طرف سے ڈل کا بہاؤ اونچا ہو جاتا ہے اور کبھی نہر کا پانی نیچا ہو تو ڈل کا پانی اونچا ہو جاتا ہے اور پانی کا بہاؤ نہر کی طرف ہو جاتا ہے۔اس نہر کے کنارے پر کھڑے ہو کر ایک دفعہ میں اس نظارہ کو دیکھ رہا تھا کہ کس طرح کشتیاں ڈل سے نہر میں آتی اور کبھی شہر کی طرف سے آکر ڈل میں چلی جاتی ہیں۔جس دن کا یہ واقعہ ہے اُس دن نہر کا پانی نیچا تھا اور ڈل کا پانی اونچا تھا۔اس وجہ سے ڈل سے آنے والی