خطبات محمود (جلد 29) — Page 37
$1948 37 خطبات محمود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مخاطب کرنے سے ہمیشہ کترا تا تھا لیکن اگر ضرورت پڑ بھی جائے اور مجبوراً مخاطب کرنا ہی پڑے تو تم کہہ کر مخاطب کرتا تھا۔چنانچہ مجھے اس دوست کی موجودگی میں آپ سے کوئی بات کرنا پڑی اور میں نے تم کا لفظ استعمال کیا۔یہ لفظ سن کر اُس دوست نے مجھے بازو سے پکڑ لیا اور مجلس سے ایک طرف لے گئے اور کہا میرے دل میں آپ کا بڑا ادب ہے لیکن یہ ادب ہی چاہتا ہے کہ آپ کو آپ کی غلطی سے آگاہ کروں۔اور وہ یہ کہ آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مخاطب کرتے وقت کبھی بھی تم کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہیے بلکہ آپ کے لفظ سے مخاطب کیا کریں ور نہ آپ نے پھر یہ لفظ بولا تو میں جان لے لوں گا۔مجھے تو تم کا لفظ استعمال کرتے رہنے کی وجہ سے تم اور آپ میں کوئی فرق محسوس نہ ہوتا تھا بلکہ میں آپ کی نسبت تم کے لفظ کو زیادہ پسند کرتا تھا۔اور حالت یہ تھی آپ کا لفظ بولتے ہوئے مجھے عادت نہ ہونے کے شرم سے پسینہ آجا تا تھا کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ آپ کہنا جرم ہے۔مگر اُس دوست کے سمجھانے کے بعد میں آپ کا لفظ استعمال کرنے لگا اور اُن کی اِس محبت کا اثر اب تک میرے دل میں موجود ہے دوسری بات اُنہوں نے یہ کی کہ میں نے ایک دفعہ لاہور آنے پر یہاں بعض لڑکوں کو نکھائی لگاتے دیکھا۔میں نے بھی شوق سے ایک ٹکٹائی خرید کر لگائی۔پھر وہی دوست مرحوم مجھے پکڑ کر ایک طرف لے گئے اور کہنے لگے آج آپ نے نکٹائی پہنی ہے تو ہم کل کنچنیوں کا تماشہ دیکھنے لگ جائیں گے کیونکہ ہم نے تو آپ سے سبق سیکھنا ہے۔جو قدم آپ اٹھا ئیں گے ہم بھی آپ کے پیچھے چلیں گے۔یہ کہہ کر انھوں نے مجھ سے نکھائی مانگی اور میں نے اُتار کر اُن کو دے دی۔پس اُن کی یہ دو نصیحتیں مجھے کبھی نہیں بھول سکتیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ایک مخلص متبع کو ایسا ہی ہونا چاہیے۔اگر ہمارے خاندان کا کوئی نوجوان اپنی ذمہ داری کو نہیں سمجھتا تو صاحبزادہ صاحب، صاحبزادہ صاحب کہہ کر اُس کا دماغ بگاڑ نا نہیں چاہیے۔بلکہ اس سے کہنا چاہیے کہ آپ ہوتے تو صاحبزادہ ہی تھے مگر اب غلام زادہ سے بھی بدتر معلوم ہورہے ہیں اس لیے آپ کو چاہیے کہ اپنی اصلاح کریں۔اسلام میں نسلی فوقیت ہر گز نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک دفعہ پوچھا گیا کہ جاہلیت کے زمانہ میں جو شرفاء تھے اب اُن کی کیا حیثیت ہے؟ آپ نے فرمایا جو لوگ جاہلیت میں شرفاء تھے وہ اب بھی شرفاء ہیں بشرطیکہ وہ نیک کام کرتے ہوں۔4 اسی طرح قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر اہل بیت نیک کام کریں گے اور